زبیر بلوچ: جدوجہد، قربانی اور روشن چراغ کی یاد

چئیرمین حلیم بلوچ
دہاہیوں قبل عطاء شاد نے سرزمین کے کسی جری سپوت کے جوان مرگی پر نوحہ کرتے ہوۓ۔ “ساہ کندن” تخلیق کیا اور کہا

“راست انت کہ تئ سوب ءٓ من ءٓ مرگی کتگ
شاتے کہ تئ زوراکی ءٓ مرچی پدا زند ءِ یلیں بچے جتگ
بچ آجوئ
بچ ایمنی
بچ گلزمین ءِ دیدگ ءُ زردءِ مراد
بچ غم جتیں بنی آدمے رکینگ ءِ جہد ءِ مراد”

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب زبیر نہ رہبر تھے، نہ چیئرمین، بلکہ صرف “ملک زبیر” کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ پنجاب کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم تھے، اور میری اُن سے پہلی ملاقات اُن کے بڑے بھائی اور میرے عزیز دوست ڈاکٹر خلیل بلوچ کے توسط سے ہوئی، جو اُس وقت میرے ساتھ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔

خاموش طبیعت کے حامل مگر عزم و کمٹمنٹ سے بھرپور ملک زبیر نے اپنے ادارے میں بی ایس او کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ وقت آگے بڑھتا گیا، ہم نے طلبہ سیاست سے رخصتی اختیار کی، مگر زبیر بلوچ نے میدان کو چھوڑنے کے بجائے اپنے عزم و قربانی کے ساتھ سفر جاری رکھا۔ جلد ہی “ملک زبیر” “زبیر بلوچ” بن گئے—وہ نام جس نے نہ صرف بی ایس او کی قیادت سنبھالی بلکہ بلوچستان کی قومی سیاست کے افق پر ایک توانا اور باوقار آواز کی صورت میں جگہ بنا لی۔

بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی نوآبادیاتی پالیسیاں، ریاستی جبر اور محکوم عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم کے اثرات نے ہزاروں سیاسی کارکنوں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے رویوں و لہجوں میں تلخیاں پیدا کرتے ہوۓ انہیں ریاستی بندوبستی نظام سے مایوسی کیطرف دھکیلا ۔ یہ اثرات زبیر بلوچ پر بھی پڑے، جو ایک فطری امر تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ ایک بہادر کارکن، شاندار منتظم اور ناقابلِ شکست رہنما کے طور پر ابھرے۔

میری نظر میں جتنا مختصر عرصہ زبیر بلوچ نے اپنی محنت، جرات اور عزم سے قومی سیاست میں اپنی الگ پہچان قائم کرنے میں صرف کیا، اس کی مثال تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے۔ وہ بلوچستان کی مظلوم دھرتی کے لیے ایک روشن چراغ اور جبر کے اندھیروں میں امید کی کرن تھے۔

افسوس کہ بلوچستان کو یہ روشن چراغ زیادہ دیر میسر نہ رہا۔ ریاستی جبر کے بوجھ تلے وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی، جو محکوم عوام کے لیے امید اور حوصلے کا استعارہ تھی۔
جب وہ “بی ایس او” کے مرکزی کنونشن منعقد کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے تو حسب روایت تنظیم کے نۓ آنے والے قیادت کے ناموں پر مشاورتی رابطہ ہوا، یہ زبیر کیساتھ میرا آخری رابطہ تھا۔

ان کی شہادت پر میرا دل رنجیدہ ہے، مگر ساتھ ہی سر فخر سے بلند ہے کہ بلوچستان نے ایسے جری فرزند کو جنم دیا۔ میں اُن کی جدوجہد، وابستگی اور قربانیوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

اور عطاء شاد اسی “ساہ کندن” میں غاصب قوتوں کو متوجہ کرتے ہوۓ سوال کرتے ہیں

“تو په سرانی گڈگءٓ زندءِ ھیالاں کشُے؟
په سندگ ءٓ داشت کنے پلاں چہ بوتالانی ءٓ؟”

خداحافظ، ملک زبیر

اپنا تبصرہ بھیجیں