عزیز سنگھور
بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ یہ محض کسی عام شہری یا بلوچ سیاسی کارکن کا تجزیہ نہیں بلکہ حکومت سے منسلک جماعت “بلوچستان عوامی پارٹی” کے انٹر پارٹی الیکشن کے دوران سابق وزیراعلیٰ اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے خود اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہیں اب نہ عوام کے لیے محفوظ ہیں اور نہ ہی سیاستدانوں کے لیے۔ ان کے بقول حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزراء بھی بائے روڈ سفر کرنے سے قاصر ہیں۔
جان محمد جمالی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بولان کے راستے سے نہیں گزر سکتے اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نوشکی کراس کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق قلات اور دیگر اضلاع کی صورتِ حال بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ ان کے اس اعتراف نے بلوچستان کی بگڑتی صورتِ حال کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کیا، مگر سوال یہ ہے کہ آخر بلوچستان کو اس نہج پر پہنچانے والے کون ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ بدامنی اور عدم استحکام کی ذمہ داری انہی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو دہائیوں سے طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ریاستی پالیسی ہمیشہ طاقت اور عسکری آپریشن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اسلام آباد کی اشرافیہ نے بارہا بلوچ عوام کے ساتھ مذاکرات کے مواقع ضائع کیے۔
سنہ 2021 میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج کیا۔ 2024 میں تربت سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا گیا۔ اور اب حالیہ دنوں میں 74 دنوں تک لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ یہ تمام احتجاج ایک ہی حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران بلوچوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ماضی کے دھرنوں پر نظر ڈالیں تو تصویر مزید تلخ نظر آتی ہے۔ بلوچ لواحقین کو انصاف دینے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، انہیں ہراساں کیا گیا اور خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ یہ سب کچھ دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا جہاں ملک کے اعلیٰ ایوان، عدالتیں اور میڈیا ہاؤسز موجود ہیں۔
بلوچ سماج میں خواتین کے ساتھ اس طرح کے رویے کو آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بلوچ خواتین اپنے گمشدہ پیاروں کے لیے آواز بلند کرنے نکلیں تو ان پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں نے بلوچستان کے زخموں کو اور گہرا کر دیا۔ اسلام آباد ان خواتین کو انصاف دینے کے بجائے طاقت سے خاموش کروانا چاہتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بلوچ معاشرے میں ریاست کے خلاف بداعتمادی مزید بڑھ گئی۔
بلوچستان کا سب سے سنگین مسئلہ جبری گمشدگی ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے برسوں سے دربدر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھا چکی ہیں۔ مگر پاکستان کی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مسلسل نظرانداز کر رہی ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی ریاست یا قانون کے خلاف جرم میں ملوث ہے تو اسے پاکستانی عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟ عدالتیں بھی ریاست ہی کی بنائی ہوئی ہیں، ججز بھی ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور فیصلے بھی اکثر ریاستی خواہشات کے مطابق دیے جاتے ہیں۔ پھر بھی حکمرانوں کو عدالتوں سے کس بات کا ڈر ہے؟ اگر کوئی بلوچ نوجوان قصور وار ہے تو اسے عدالت میں لا کر سزا دی جائے، لیکن ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔
اسلام آباد کے رویے نے بلوچ عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ ہر دھرنے کے بعد وہ مایوس ہو کر اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ جب احتجاج کرنے والے خالی ہاتھ لوٹتے ہیں تو بلوچستان میں موجود نوجوانوں کے ذہن میں یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ پرامن جدوجہد کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ یہی وہ احساس ہے جو نئی نسل کو مزاحمتی راستوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے حکمران طبقات، بشمول وہ سیاستدان جو اسلام آباد کے ایوانوں کا حصہ بنتے ہیں، وہ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی ریاستی اشرافیہ۔ وہ جانتے ہیں کہ طاقت کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود وہ بلوچ عوام کے حقیقی مسائل پر آواز بلند نہیں کرتے۔ اقتدار کے مزے اور مراعات کی خاطر وہ اپنی قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
جان محمد جمالی کا یہ اعتراف اہم ضرور ہے کہ بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ نہیں رہیں، مگر اس اعتراف کے بعد عملی اقدامات کہاں ہیں؟ کیا وہ یہ سوال اسلام آباد کے ایوانوں میں بھی اٹھائیں گے؟ کیا وہ اپنی ہی جماعتوں اور اتحادیوں کو باور کرائیں گے کہ بلوچستان کے مسائل عسکری نہیں بلکہ سیاسی ہیں؟
بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال ایک ایسے چوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے دو ہی راستے نکلتے ہیں یا تو ریاست طاقت کے بل پر مزید جبر کرے، جس کے نتائج ماضی کی طرح تباہ کن ہوں گے، یا پھر مکالمے اور سیاسی حل کی طرف قدم بڑھائے۔ اگر ریاست واقعی اپنے وفاق کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بلوچ عوام کے ساتھ ایمانداری سے مذاکرات کرنا ہوں گے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہوگا اور اگر کوئی قصور وار ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرنا ہوگا۔
طاقت کی زبان سے بلوچستان کبھی بھی مطمئن نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور بلوچ عوام کو یہ یقین دلائے کہ ان کے مسائل طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور سیاسی شعور سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، جان محمد جمالی جیسے رہنماؤں کے خدشات صرف خدشات نہیں رہیں گے بلکہ ایک بھیانک حقیقت میں ڈھلتے جائیں گے۔

