سانچ (نہر لوئر باری دوآب کے کنارے شوق، سکون اور قدرت کا لمس)

محمد مظہررشید چودھری
شہر کی چہل پہل اور زندگی کی دوڑ بھاگ سے ذرا فاصلے پر، نہر لوئر باری دوآب اپنی مخصوص روانی اور بہتے پانی کی مدھر موسیقی کے ساتھ ایک الگ ہی دنیا آباد کیے ہوئے ہے۔ یہاں کے پانی کی چھینٹوں میں وہ تازگی ہے جو تھکے ہارے بدن کو بھی حیاتِ نو عطا کرتی ہے۔ فضا میں کوؤں کی کائیں کائیں اور پرندوں کی ہلکی مگر مسلسل چہچہاہٹ اس منظر کو مزید جیتا جاگتا بناتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے فطرت نے اپنے تمام ساز یکجا کر کے ایک ایسا راگ چھیڑ دیا ہو جو دل کو ایک عجب سکون سے ہمکنار کرتا ہے۔سانچ کے قارئین کرام!اس نہر کے کنارے پر آنے والے زیادہ تر لوگ پروفیشنل شکاری یا تجارتی ماہی گیر نہیں ہوتے۔ ان کے پاس بڑے جال نہیں، نہ ہی کاروباری کشتیوں کی دھوم دھام۔ یہ وہ عام لوگ ہیں جو بس شوقیہ آتے ہیں، اپنے ساتھ ایک پرانی سی ڈور، بانس یا ڈنڈی لاتے ہیں، اور کبھی کبھار چھوٹی سی مچھلی پکڑ کر خوشی خوشی گھر لوٹ جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ایک دو مچھلیاں بھی ان کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں ہوتیں۔ یہی معمولی سا شکار اکثر ایک پورے گھر کی دعوت کا بہانہ بن جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت کے ساتھ یہ مختصر ملاقات زندگی میں غیر معمولی خوشی کا سامان مہیا کر دیتی ہے۔اسی منظر کا ایک روپ نہر کے کنارے پر نظر آیا۔ ایک نوجوان، شاید طالب علم یا محض ایک شوقین، اپنی ڈور کے الجھے ہوئے تار سلجھا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں شاپر تھا جس میں کینچوے رکھے ہوئے تھے۔ وہ بڑی احتیاط سے ان کینچوؤں کو کانٹوں پر پروتا، اور پھر سنجیدگی سے ڈور کو نہر کے پانی میں ڈال دیتا۔ لمحہ لمحہ جیسے ایک انتظار میں ڈھل گیا۔ آدھے گھنٹے تک وہ خاموشی سے بہتے پانی کو دیکھتا رہا۔ اردگرد کی دنیا گویا تھم گئی تھی۔ نہر کی لہریں، کوؤں کی آوازیں، اور نوجوان کے چہرے پر چھائی بے تابی،یہ سب مل کر ایک مکمل کہانی کہہ رہے تھے۔پھر اچانک ایک لمحہ آیا۔ ڈور ہلی، نوجوان چونکا، اور تیزی سے اسے کھینچنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی مچھلی اور ساتھ ہی ایک سانپ مچھلی آ گئی۔ اس کی آنکھوں میں جو چمک تھی، وہ کسی بڑے انعام سے کم نہ تھی۔ اس کے لیے یہ شکار صرف ایک تفریح نہیں تھا بلکہ ایک فتح، ایک کامیابی کا استعارہ تھا۔یہ منظر صرف ایک شوقیہ شکاری کے دل کی تسکین کا نہیں تھا بلکہ میرے ساتھ آئے بچوں کے لیے یہ علم و آگہی کا نیا دریچہ بھی ثابت ہوا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ لمحہ دیکھا جسے کسی کتاب میں پوری شدت کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ڈور کی جنبش، مچھلی کا پانی سے نکلنا، اور اس کے زندہ لمس کا احساس یہ سب کچھ انہیں قدرت کے قریب لے آیا۔ یہ وہ سبق تھے جو کلاس روم کے بند دروازوں اور کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتے۔نہر کے کنارے یہ چھوٹے چھوٹے لمحات بظاہر معمولی لگتے ہیں، مگر حقیقت میں یہی زندگی کے بڑے سبق اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیکھتے ہیں کہ صبر کس طرح کامیابی میں بدلتا ہے، کہ انتظار کے بعد ملنے والی خوشی کتنی انمول ہوتی ہے، اور یہ کہ قدرت کے ساتھ جڑنے کا احساس انسان کی روح کو کس قدر سکون بخشتا ہے۔یہاں کی فضا میں ایک اور بات بھی نمایاں ہے۔ شہری زندگی کے شور شرابے اور جدیدیت کی دوڑ میں انسان اکثر اپنے وجود کے اصل ذائقے بھول جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں جان پاتا کہ خوشی صرف بڑی کامیابیوں اور مہنگی تفریحوں میں نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی یہ خوشی ایک بانس کی ڈنڈی، کینچوے کا کانٹا اور نہر کے کنارے بیٹھنے میں چھپی ہوتی ہے۔ چھوٹی مچھلی پکڑنے والے ان لوگوں کی مسکراہٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سکون خریدا نہیں جا سکتا، یہ تو فطرت کے ساتھ رشتے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔نہر لوئر باری دوآب نہ صرف ایک آبی گزرگاہ ہے بلکہ یہ اپنے کناروں پر آنے والوں کو صبر، شوق اور جستجو کا سبق بھی دیتی ہے۔ پانی کی مسلسل روانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کبھی رْکتی نہیں، مشکلات ہوں یا آسانیاں، بہاؤ جاری رہتا ہے۔ مچھلی پکڑنے والے شکاری ہمیں سکھاتے ہیں کہ محنت اور انتظار کا پھل آخرکار ملتا ہے، چاہے وہ چھوٹی سی مچھلی ہی کیوں نہ ہو۔یہ مناظر انسان کو اپنی اصل طرف لوٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم اکثر بڑے خوابوں اور بڑی دوڑوں میں چھوٹے لمحوں کو کھو دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی چھوٹے لمحوں میں زندگی کے بڑے سبق پوشیدہ ہوتے ہیں۔ نہر کے کنارے بیٹھ کر انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا صرف دولت اور شہرت کا نام نہیں، بلکہ سکون، تعلق اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی بھی زندگی کے بڑے سرمایے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ نہر لوئر باری دوآب کے کنارے آنے والا ہر شخص اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ لے کر جاتا ہے۔ کوئی مچھلی کے شکار کی خوشی، کوئی سکون کا لمحہ، اور کوئی زندگی کے اس فلسفے کو کہ اصل دولت وہی ہے جو دل کو سکون دے۔یہ نہر صرف پانی کی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے، جہاں فطرت اپنے منفرد انداز میں سبق دیتی ہے۔ یہاں آنے والا سیکھتا ہے کہ شوق، صبر، جستجو اور قدرت سے ربط ہی وہ حقیقی تحفہ ہے جو زندگی کو اصل معنوں میں خوشگوار بناتا ہے۔ اور یہی وہ تحفہ ہے جو نہر لوئر باری دوآب اپنے ہر کنارے پر آنے والے کو عطا کرتی ہے۔٭

محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں