کیچ کلچر فیسٹیول میں تعلیمی و ثقافتی منصوبوں کی اہمیت اجاگر

سرتاج گچکی

آج جس ادارے میں کیچ کلچر فیسٹیول کا پُروقار اور شاندار تقریب منعقد ہو رہا ہے 2013 سے قبل یہاں صرف چند ٹوٹے پھوٹے دیواروں کے سوا کچھ نہیں تھا اور لیڈ مافیا کی نظریں بھی اِسی جگہ پر لگے ہوئے تھے کہ کس طرح اِس پر قبضہ کریں لیکن کوششوں کے باوجود اُنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2013 میں جب ڈاکٹر مالک بلوچ صاحب وزیر اعلی بلوچستان بنا تو اُس کا وژن تھا کہ بلوچسان میں تعلیمی اداروں کا جال بچایا جایے تاکہ بلوچ نوجوانوں کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ وہ تمام معیاری تعلیمی ادارے اُن کو فراہم کریں جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنی وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کیچ، خضدار اور لورلائی میں یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کی تعمیر کا آغاز کیا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے کیچ سٹی کو ایک جدید شہر کا بھی روپ دیدیا۔ تربت میں کجھوروں کیلئے ایک مرکز کی تعمیر کی۔ اُس کا یہ بھی وژن تھا کہ تربت میں ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جس میں نوجوانوں کو آرٹ، بلوچی میوزک اور قیمتی نوادرات سے متعلق روشناس کیا جا سکے۔ اس غرض سے اُنہوں نے کیچ کلچر سنٹر اور میوزیم کی تعمیرات کا بھی آغاز کیا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ کی کوششوں سے آج کیچ میں یونیورسٹی، میڈیکل کالج اور کیچ آرٹ اینڈ کلچر سنٹر سے ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور طالبات علم و ہُنر کی زیور سے آرائستہ ہو رہے ہیں جو نئی نسل کیلئے کسی سرمایہ سے کم نہیں ہیں۔ ڈاکٹر مالک بلوچ صاحب کا منصوبہ تھا کہ اِس ادارے کو آرٹ کالج کا درجہ دیا جائیگا جس میں طلبہ و طالبات کو آرٹ اور بلوچی میوزک پڑھایا جائیگا لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ صاحب کی وزارت اعلی کے جانے کے بعد اس عظیم الشان منصوبے کو بعد میں آنے والی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ادارہ وہ مقام حاصل نہ کرسکا جس کا خاکہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے سوچا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں