عزیز سنگھور
بلوچستان کے سابق وزیر میر اسلم بلیدی نے سوشل میڈیا پر ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے “کیچ کلچر فیسٹیول” کے حوالے سے لکھا: “فیسٹیول کا نام کیچ کلچر فیسٹیول مگر وہاں زبان بلوچی کے بجائے اردو بولی جارہی ہے۔ کہاں کیچ اور کہا لکھنؤ؟”۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس پر ردعمل لازمی آنا تھا۔ کسی نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “جس کی کھائین، اسی کی گنگنائیں”، تو کسی نے اس عمل کو سیدھا سیدھا “ذہنی غلامی” قرار دیا۔
میر اسلم بلیدی مکران کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوا کہ “کیچ” کی دھرتی پر بلوچی زبان کو پسِ پشت ڈال دیا گیا تو یہ حیران کن اور افسوس ناک ہے۔ کیونکہ زبان اور کلچر لازم و ملزوم ہیں، زبان کو پسِ پشت ڈالنا کلچر کے خاتمے کے مترادف ہے۔
یہ پوسٹ پڑھ کر مجھے کچھ دن پہلے کی ایک نشست یاد آگئی۔ دس روز قبل میں کراچی پریس کلب کے ٹیرس پر اپنے سینئر دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران سینئر صحافی اور کالم نویس مظہر عباس نے بتایا کہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے انہیں فون کرکے کیچ کلچر فیسٹیول میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ مظہر عباس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر مالک صاحب کو جواب دیا کہ وہ اس تاریخ کو لندن میں ہوں گے، اس لیے شریک نہیں ہوسکتے۔
اس پر میں نے پروفیسر توصیف احمد خان کی طرف دیکھا اور انہیں ہنستے ہوئے کہا: “آپ ڈاکٹر مالک کے نیشنل پارٹی کے انتخابات کرانے کے لیے کوئٹہ جاتے ہیں، ان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ بنتے ہیں، مگر ڈاکٹر مالک آپ کو دعوت دینے کے بجائے مظہر عباس کو بلا رہے ہیں۔” یہ جملہ محفل میں قہقہوں کا سبب بنا۔
کراچی پریس کلب کے ٹیرس پر پروفیسر توصیف احمد خان کی شام کی “بیٹھک” کسی دانش کدے سے کم نہیں ہوتی۔ وہاں مظہر عباس، ڈاکٹر سعید عثمانی، محمود لیئق، ڈاکٹر صیف اللہ خان، پروفیسر عرفان عزیز، پروفیسر ناصر محمود، عارف بلوچ، شکیل سلاوٹ، ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد بٹ، قاضی خضر، علی اوسط اور کئی دوسرے احباب شریک ہوتے ہیں۔ ہمارے دیگر صحافی دوست اس بیٹھک کو مزاحاً “چَنڈُو خانَہ” کہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں علمی و فکری مباحث چلتے ہیں، جہاں اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کی بات سنی جاتی ہے۔
اسلم بلیدی کی پوسٹ کے بعد میں نے فیسٹیول کے حوالے سے مزید معلومات لینے کا فیصلہ کیا۔ اس پوسٹ کے بعد میں (راقم) نے حقیقت جاننے کے لیے اپنے قریبی رشتہ دار اور کیچ کے نامور صحافی اسد بلوچ سے تفصیلی گفتگو کی۔ اسد بلوچ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بتایا کہ یہ کلچر فیسٹیول دراصل ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں منعقد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس بڑے پروگرام کے لیے مقامی سول سوسائٹی، بی این پی عوامی اور صحافی برادری کی مدد لی، تاکہ اسے کامیاب بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی معمولی تقریب نہیں ہے بلکہ ایک ڈیڑھ کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے۔ اسد بلوچ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ڈاکٹر مالک بلوچ کا براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کی سربراہی میں ایک فیسٹیول کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں معتبر اور سماجی طور پر فعال شخصیات شامل ہیں۔ اس کمیٹی میں بی این پی عوامی کے رہنما الطاف، مرحوم واجہ ملا احمد کے صاحبزادے غلام اعظم دشتی، سیاسی رہنما عمر بلوچ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خلیل لقمان، معزز مقامی شخصیت مقبول بلوچ، سینئر صحافی حافظ صلاح الدین سفلی اور پھلان خان شامل ہیں۔
یہ سب افراد اپنے اپنے حلقوں میں انتہائی معتبر اور باعزت سمجھے جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر بھی ان میں سے اکثر میرے قریبی دوست ہیں، اس لیے میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ لوگ کسی بھی سیاسی یا ذاتی مفاد کے بجائے سماجی خدمت اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہیں۔
اس وضاحت کے باوجود میرے ذہن میں ڈاکٹر مالک کی جانب سے مظہر عباس کو دعوت دینے والی بات کھٹک رہی تھی۔ شک مزید گہرا ہوا۔ اس پر میں نے نیشنل پارٹی کے رہنما انجینئر حمید بلوچ کو فون کیا جو تربت کے علاقے ملاہی بازار سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا: “حمید صاحب، آپ کیچ فیسٹیول میں شریک ہوئے؟” انہوں نے جواب دیا کہ وہ کراچی میں ہیں۔ پھر میں نے مزید سوال کیا کہ کیا ڈاکٹر مالک نے آپ کو دعوت نہیں دی؟ اس پر حمید بلوچ نے ہنستے ہوئے کہا: “شاید آج کل میں ڈاکٹر مالک کی “گڈ لسٹ” میں نہیں ہوں، اس لیے مجھے نہیں بلایا گیا۔”
ان کی یہ بات سن کر میرا شک اور بھی پختہ ہوگیا۔ مزید کنفرمیشن کے لیے میں نے نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما مجید ساجدی سے فون پر رابطہ کیا۔ اس دوران ان کے گود میں نواسہ رونے لگا۔ انہوں نے مختصر جواب دیا کہ ہاں، ڈاکٹر مالک نے انہیں دعوت دی تھی لیکن ذاتی مصروفیات کے باعث وہ شرکت نہیں کرسکے۔ اب تو معاملہ بالکل صاف ہوگیا تھا کہ پردے کے پیچھے ڈاکٹر مالک کی شمولیت ضرور تھی۔
اس کے بعد میں نے سینیٹر جان محمد بلیدی سے اس بابت شکوہ کیا کہ پروفیسر توصیف احمد خان کو دعوت نہ دینا مناسب عمل نہیں تھا۔ جان محمد بلیدی سے شکایت کرنے کا بھی اپنا ہی ایک انداز اور لطف ہے۔ کیونکہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بھی میں نیشنل پارٹی کے خلاف کوئی تنقیدی کالم لکھتا ہوں تو وہ اگلی صبح بالکل سات بجے میرے فون کی گھنٹی بجاتے ہیں۔ ان کا فون میری نیند کا دشمن ہوتا ہے۔ ان کی سخت آواز کانوں میں گونجتی ہے، اور وہ بھرپور انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ براہِ راست بات کرنے والے انسان ہیں اور اگر ان کے دل میں کوئی بات کھٹکتی ہے تو وہ چھپاتے نہیں، فوراً کہہ دیتے ہیں۔
اصل میں جان بلیدی صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ میرے بچپن کے دوست ہیں۔ ہمارے رشتے کی بنیاد سیاست نہیں بلکہ پرانی دوستی اور وہ یادیں ہیں جو طالب علمی کے زمانے سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اُس وقت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کراچی زون کے صدر تھے اور میں بھی بی ایس او کا سرگرم رکن تھا۔ بی ایس او کی وہ محفلیں، نظریاتی بحثیں، احتجاجی جلوس اور طلبہ سیاست کی تپش آج بھی یاد آتی ہے۔ انہی دنوں میں ہمارے درمیان جو تعلق بنا، وہ آج بھی قائم ہے۔
طالب علمی ختم ہوگئی، سیاست نے الگ راستے اپنائے، اور وقت نے ہم سب کو اپنی اپنی راہوں پر ڈال دیا، لیکن ہمارے درمیان ذاتی تعلق کی ڈور کبھی کمزور نہ ہوئی۔ آج بھی جب ہم ملتے ہیں تو پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، اور ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھما ہوا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود میں انہیں اپنے اچھے دوستوں میں شمار کرتا ہوں۔ وہ اختلاف کو دوستی پر حاوی نہیں ہونے دیتے اور میں بھی ہمیشہ اس روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
دیکھا جائے تو نیشنل پارٹی خود بھی ایک “چَنڈُو خانَہ” سے کم نہیں۔ ہر رہنما اپنی ڈفلی بجاتا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے رکن خیرجان بلوچ اپنی پوزیشن رکھتے ہیں، میر کبیر احمد محمد شہی اور ڈاکٹر مالک کا موقف الگ ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال بی ایس او کے سابق چیئرمین ایڈووکیٹ زبیر بلوچ کی شہادت ہے، جس پر پارٹی کے رہنماؤں نے مختلف آرا پیش کیں۔
کیچ فیسٹیول کے پیچھے اصل طاقتور عناصر کون تھے، یہ تو میرے علم میں نہیں۔ مگر منظر دلچسپ اس وقت بنا جب انہی طاقتوں کے سبب صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی اور ڈاکٹر مالک بلوچ ایک ہی پنڈال میں ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف بھی ہیں اور حریف بھی۔ یاد رہے کہ جب بلوچستان کے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہورہا تھا تو امیدوار میر ظہور بلیدی اور سرفراز بگٹی تھے۔ اس وقت حکومت سازی کرنے والے “فرشتوں” نے ڈاکٹر مالک بلوچ سے ووٹ مانگا، لیکن ڈاکٹر مالک بلوچ نے ظہور بلیدی کے بجائے سرفراز بگٹی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس مخالفت کی وجہ سے ظہور بلیدی وزیراعلیٰ بننے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔
سچ یہ ہے کہ ہماری پارلیمانی سیاست کھلے بازار کی دلالی جیسی ہے، جہاں عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 سے حکومتیں بنتی ہیں۔ ایسے میں “ڈمی نمائندے” اور “ڈمی پارلیمنٹ” وجود میں آتے ہیں، جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کے بجائے طاقتوروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔
میر اسلم بلیدی کی یہ تنقید کسی عام تبصرے کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ ایک گہری فکری نشاندہی ہے۔ ان کا کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر کیچ جیسی سرزمین، جو صدیوں سے بلوچی تہذیب و ثقافت کی علامت ہے، وہاں کے کلچر فیسٹیول میں بلوچی زبان کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ محض انتظامی یا لسانی کوتاہی نہیں بلکہ بلوچ شناخت پر ایک کاری وار ہے۔
زبان اور ثقافت کا رشتہ ایک جسم اور جان کی طرح ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر جان کا وجود ممکن نہیں، اسی طرح زبان کے بغیر ثقافت اپنی روح کھو دیتی ہے۔ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تاریخ، یادداشت اور اجتماعی شعور کی حفاظت کرنے والا خزانہ ہے۔ اگر “کیچ کلچر فیسٹیول” جیسے مواقع پر بلوچی زبان کو ثانوی حیثیت دی جائے، تو گویا اس ثقافت کے رنگین پھولوں سے خوشبو ہی چھین لی گئی ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے طاقتور عناصر نے ایک منصوبہ بندی کے تحت بلوچ عوام کو ان کی زبان اور ثقافت سے دور کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ زبان کو دبانے سے ثقافت ختم نہیں کی جا سکتی۔ زبان جتنی دبائی جاتی ہے، اتنی ہی شدت سے زندہ رہتی ہے، کیونکہ وہ عوام کی سانسوں، گیتوں اور روزمرہ کی بولیوں میں رچی بسی ہے۔

