تحریر:سردار محمدریاض
آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی فضا اس وقت ایک گہرے اضطراب اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ عوام کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی، سیاسی عدم استحکام اور قیادت پر سے اٹھتا ہوا اعتماد ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اقتدار کی کرسی کے گرد ہونے والی رسہ کشی نے سیاست کو خدمت کی بجائے ذاتی مفاد، خود غرض مفاہمت اور موقع پرستی کا کھیل بنا دیا ہے۔ بار بار حکومتوں کی تبدیلی، اقتدار کی بندر بانٹ اور وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر مسلسل تبدیلیوں نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ جمہوری عمل کی روح کو بھی زخمی کیا ہے۔ آزاد کشمیر میں اقتدار کی اس لوٹ سیل نے عوامی مینڈیٹ کی توہین کی ہے کیونکہ جس عوام نے ووٹ دے کر اپنے نمائندوں کو منتخب کیا تھا وہ آج خود کو بے بس، تماشائی اور مایوس محسوس کر رہی ہے۔سیاسی قیادت کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ برسوں سے آزاد کشمیر کے عوام بنیادی مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور ترقیاتی منصوبے اب بھی خواب ہی نظر آتے ہیں۔ انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے ہر بار بھلا دیے جاتے ہیں، عوامی توقعات کو نعرے اور تقاریر کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے لیے عوام محض ایک سیڑھی کا درجہ رکھتے ہیں، جن کے کندھوں پر چڑھ کر وہ اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچتے ہیں اور پھر انہیں بھول جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاست کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں قیادت نظریات کی بجائے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی خدمت کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ اقتدار کے حصول کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں وفاداریاں تبدیل کرنا یہاں معمول بن چکا ہے۔ آج جو شخص ایک جماعت کا ترجمان ہے، کل وہ مخالف جماعت کے جلسے میں اسی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہوتا ہے۔ نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے، اب سیاست صرف کرسی، وزارت اور مفادات کے گرد سمٹ کر رہ گئی ہے۔ عوام کا حال یہ ہے کہ وہ ہر نئے انتخابات میں ایک نئی امید کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں مگر ہر بار مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ نوجوان طبقہ جو کبھی سیاسی تبدیلی کا خواب دیکھتا تھا، اب سیاست سے مکمل طور پر بیزار ہو چکا ہے۔ اس نسل کو یقین ہو چکا ہے کہ چاہے کوئی بھی حکومت آ جائے، عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آنے والی ہے۔بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور اقربا پروری نے عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب لوگ سیاست کو خدمت نہیں بلکہ ایک کاروبار سمجھنے لگے ہیں جس میں سرمایہ دار، جاگیردار اور بااثر طبقہ ہی کامیاب ہوتا ہے۔آزاد کشمیر کے سیاست دانوں نے عوام کے جذبات سے کھیلنا ایک عادت بنا لی ہے۔ ہر نیا وزیر اعظم آتے ہی اصلاحات کے وعدے کرتا ہے مگر چند ہی ماہ بعد وہی نظام، وہی چہرے اور وہی رویے لوٹ آتے ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی سے عوامی مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ انتظامی نااہلی، اداروں میں سیاسی مداخلت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ترقیاتی بجٹ سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر تقسیم ہوتا ہے۔ عوامی فلاح کے منصوبے فائلوں میں دفن رہ جاتے ہیں جبکہ سیاست دان اپنے ذاتی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا شور مچا کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔آزاد کشمیر کے نوجوان جو تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں وہ اب اس نظام کو ایک دھوکہ سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست دان ان کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ حکومت کی بار بار تبدیلی نے اداروں میں عدم تسلسل پیدا کر دیا ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبے منسوخ کر دیتی ہے جس سے ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ ایک مستحکم پالیسی کا نہ ہونا آزاد کشمیر کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔عوامی نمائندے جو عوام کی آواز بننے کے دعوے دار ہیں وہ اقتدار کے ایوانوں میں عوامی مسائل اٹھانے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اسمبلی مباحثے عوامی فلاح کی بجائے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ اس ساری صورتحال نے جمہوری عمل کو محض ایک تماشہ بنا دیا ہے، جس میں عوام کے کردار کو ایک تماشائی کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔سیاسی جماعتوں کا باہمی تصادم دراصل نظریاتی نہیں بلکہ ذاتی مفاد کا ہے۔ اقتدار کے لیے اتحاد بنانا اور پھر انہی اتحادیوں کو گرانے کی سازش کرنا اس نظام کا خاصہ بن چکا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رکھی گئی۔ عوام جسے ووٹ دے کر اقتدار میں لاتے ہیں وہ اقتدار کی کرسی پر پہنچ کر عوام سے دور ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کی بار بار تبدیلی سے عوام کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ان کا ووٹ بے وقعت ہے یہ سب کچھ آزاد کشمیر کے سیاسی نظام کے اس بحران کی نشاندہی کرتا ہے جو بتدریج عوامی اعتماد کو کھو رہا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان مایوس، عوام بیزار اور قیادت مفاد پرست ہو جائے وہاں ترقی کا خواب محض فریب بن جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی رہنما خود احتسابی کا مظاہرہ کریں۔ اقتدار کو خدمت سمجھیں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔اگر سیاسی قیادت نے اپنے رویے تبدیل نہ کیے تو آنے والے وقتوں میں عوام کا غصہ ایک بڑے ردِعمل کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ عوام اب خاموش نہیں رہے گی کیونکہ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ یہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ چند خاندانوں اور مفاد پرست طبقات کے لیے قائم ہے۔ نوجوان طبقہ اب ایسی سیاست چاہتا ہے جس میں شفافیت، احتساب اور عوامی خدمت اولین ترجیح ہو۔آزاد کشمیر کے عوام ایک ایسے نظام کے متمنی ہیں جہاں قیادت عوام کے دکھ درد کو سمجھے، اقتدار کے کھیل کو ختم کرے اور جمہوری اقدار کو مضبوط کرے۔ سیاست دان اگر واقعی عوام کے نمائندے ہیں تو انہیں اپنے طرزِ سیاست میں سنجیدگی اور شرافت لانی ہوگی ورنہ اقتدار کے لیے جھوٹے وعدے اور وقتی اتحاد اس خطے کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیں گے۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اپنی روش بدلے، عوامی مینڈیٹ کی قدر کرے، اداروں کو مستحکم کرے اور نوجوانوں کو امید دے۔ سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنایا جائے۔ اقتدار کو عبادت سمجھا جائے اور عوام کے مسائل کو ذاتی ترجیحات پر فوقیت دی جائے۔ جب تک یہ سوچ پیدا نہیں ہوتی، اس وقت تک آزاد کشمیر کی سیاست محض ایک تماشہ بنی رہے گی جس میں عوام تالی بجانے والے ہوں گے اور اقتدار کے کھیل کے کھلاڑی وہی پرانے چہرے ہوں گے یہ وہ لمحہ ہے جب آزاد کشمیر کے سیاست دانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں کن الفاظ کے ساتھ یاد کیے جائیں گے عوام کے خادم کے طور پر یا اقتدار کے سوداگر کے طور پر؟ عوام کی مایوسی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ سیاسی نظام اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ اگر اس نظام کو درست نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں نہ صرف سیاست بلکہ جمہوریت سے بھی بدظن ہو جائیں گی۔آزاد کشمیر کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ایسی تبدیلی جو نعرے یا جلسوں سے نہیں بلکہ عمل سے آئے۔ وہ ایسے رہنماؤں کے منتظر ہیں جو اقتدار کے نہیں، کردار کے مالک ہوں۔اگر سیاسی قیادت نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور جب عوام بولتے ہیں تو تخت و تاج زمین بوس ہو جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاست آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سے یا تو اصلاحات کی راہ نکل سکتی ہے یا تباہی کی۔ فیصلہ سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ واقعی عوامی نمائندے ہیں تو انہیں اقتدار کی لوٹ سیل ختم کرنی ہوگی، عوامی مینڈیٹ کی عزت کرنی ہوگی اور اس خطے کو ایک نئی سمت دینی ہوگی۔ یہی وقت کا مطالبہ ہے، یہی عوام کی پکار ہے اور یہی آزاد کشمیر کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

