بیجنگ(این این آئی)پاکستانی الیکٹرانکس انجینئر ڈاکٹر حفیظ الرحمان کو ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس (WIC) 2025 میں منتخب ہونے والے 20 عالمی نوجوان رہنماؤں میں شامل کرلیا گیا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق ڈاکٹر حفیظ الرحمان آئی ٹی کمپنی آئی ٹی سولیراکے سربراہ ہیں جو سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل خواندگی کی عملی تربیت میں مہارت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی میرے لیے اعزاز کی بات ہے،یہ فورم صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ انسانیت جدت، شمولیت اور مشترکہ اقدار کے ذریعے کس طرح آگے بڑھ سکتی ہے۔ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے نوجوانوں، تعلیم اور مہارتوں پر اپنی توجہ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے ہوتے ڈیجیٹل تعلقات پر بھی زور دیا، جو خطے میں آئندہ ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیاد سمجھے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق پاکستان اور چین مصنوعی ذہانت، اسمارٹ شہروں اور ڈیجیٹل اختراع کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پرچائنا موبائل کمیونیکیشنز کارپوریشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 2025 میں پاکستان کا دورہ کیا، جہاں سی پیک فریم ورک کے تحت اے آئی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز، فائیو جی نیٹ ورک کے پھیلاؤ اور کنیکٹیویٹی پر تعاون پر گفتگو ہوئی۔مزید برآں، چین اور پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹائزیشن، سیٹلائٹ نیویگیشن اور انٹرنیٹ کے میدانوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے ملکوں کا عزم کیا ہے۔ ستمبر میں دونوں ممالک نے29- 2025 کا مشترکہ ایکشن پلان جاری کیا جس کا مقصد نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل چین۔پاکستان معاشرے کو فروغ دینا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، تجارت، ثقافت اور ڈیجیٹل جدت پر قریبی اشتراک کو اجاگر کیا گیا۔ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے سی ای این کو بتایا کہ ان کا کام اور پاک۔چین نوجوانوں کا اشتراکی ماڈل ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہیں۔ ان کے مطابق ہمارے دونوں ممالک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی اگلی لہر کی قیادت کریں ایک ایسی لہر جو صرف نظاموں کو نہیں بلکہ انسانوں، مواقع اور وڑنز کو بھی آپس میں جوڑتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کی اختراع کے ذریعے دونوں ممالک عالمی ترقی میں معنی خیز کردار ادا کر سکتے ہیں۔عالمی تناظر میں، پاکستان علاقائی و ڈیجیٹل تجارتی بہاؤ کے انضمام کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے بانی اراکین میں شامل ہے، جو رابطے، ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات اور سرحد پار ڈیجیٹل معیشت کے انضمام پر توجہ دیتی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمان کی کمپنی آئی ٹی سولیرا(ITSOLERA) سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خواندگی کی تربیت پر مبنی پروگرام چلاتی ہے وہی شعبے جو چین۔پاکستان تعاون کی ترجیحات میں نمایاں ہیں۔ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس میں شرکت ڈاکٹر حفیظ الرحمان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ چین۔پاکستان تعاون کے تناظر میں شمولیتی، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کی وکالت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی چند لوگوں کے لیے عیش نہیں بلکہ سب کے لیے حق اور وسیلہ ہونی چاہیے۔ درحقیقت، چین۔پاکستان تعاون اب صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی سمت گامزن ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جولائی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ڈیجیٹل ایکوسسٹم تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور سماج کے پہلو مضبوط ہو رہے ہیں۔ڈبلیو آئی سی ووڑین 2025 کے یوتھ اینڈ ڈیجیٹل فیوچر فورم میں ڈاکٹر حفیظ الرحمان اور دیگر نوجوان رہنما انٹرنیٹ کی ترقی اور گورننس پر اپنے خیالات پیش کریں گے، جس میں اس بات کو اجاگر کیا جائے گا کہ کس طرح پاکستان اور چین کے نوجوان جدت پسند ایک ایسے ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں جو کشادگی، ہم آہنگی اور مشترکہ خوشحالی سے عبارت ہو۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے کہا ڈیجیٹل تعاون کا مستقبل مقابلے کا نہیں بلکہ اشتراک کا ہے طاقت کا نہیں بلکہ مقصد کا ہے۔

