آئین، جمہوریت اور طاقت پاکستان کی سیاسی سمت کا امتحان

آدرش واحد رحیم

دنیا کی جمہوری تاریخ میں آئین محض قانون کا مجموعہ نہیں بلکہ عوامی شعور، سیاسی عہد اور ریاستی ذمہ داری کا مظہر ہوتا ہے۔ امریکہ، بھارت، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے وفاقی ممالک میں آئین عوام کی اجتماعی دانش اور باہمی اعتماد پر قائم ہوا۔ امریکہ نے 1787 میں جو آئین بنایا، وہ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی جمہوری روح کے ساتھ زندہ ہے۔ اس میں اب تک صرف ستائیس ترامیم ہوئیں، اور ہر ترمیم نے شہری آزادیوں، وفاقی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی توازن کو مزید مضبوط کیا۔ بھارت نے 1950 کے آئین میں سو سے زیادہ ترامیم کیں مگر اس کا بنیادی ڈھانچہ، یعنی وفاقیت، مساوات اور سیکولر جمہوریت، اپنی جگہ قائم رہا۔ کینیڈا نے 1982 میں شہری حقوق کا چارٹر متعارف کرا کے انسانی آزادیوں کو آئینی تحفظ دیا، جبکہ آسٹریلیا میں آئینی ترمیم صرف عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ممکن ہے۔ ان ممالک نے اس اصول کو مانا کہ طاقت عوام کی ملکیت ہے، اور آئین اس طاقت کا منصفانہ ضابطہ۔
جون ایلیا کہتے ہیں “یہ جو دستورِ جہاں ہے، اسے بدلا جائے
ان کہن رسموں کے جالوں کو جلایا جائے”
پاکستان کی کہانی اس کے برعکس ہے۔ یہاں آئین بار بار طاقت کے کھیل کا حصہ بنتا رہا۔ 1949 میں قرارداد مقاصد کے ذریعے ریاست کا نظریاتی رخ طے کیا گیا۔ اس دستاویز نے بظاہر اسلامی اصولوں کی بنیاد پر آئینی خاکہ دینے کا وعدہ کیا، مگر عملاً ریاستی طاقت کو مذہبی جواز فراہم کر دیا۔ ترقی پسند حلقوں کے نزدیک یہ وہ موڑ تھا جہاں جمہوریت کے مقابل ایک نظریاتی ریاست کا تصور پیدا ہوا۔ یہی تصور آگے چل کر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ حدود آرڈیننس، شریعت بل اور آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیا گیا جس میں صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دے کر جمہوریت کو غیر یقینی سیاست میں دھکیل دیا گیا۔ آرٹیکل 58(2)(b) وہ زخم تھا جس نے پارلیمانی نظام کو اندر سے کمزور کیا۔
پاکستان میں چار بار آئین معطل ہوا۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف، سب نے جمہوریت کے نام پر اقتدار سنبھالا مگر نتائج ہمیشہ آمریت نکلے۔ جنرل مشرف نے 1999 میں اقتدار سنبھالتے وقت آئین معطل کیا اور پی سی او و ایل ایف او کے ذریعے اس میں اپنی مرضی کی تراش خراش کی۔ اس دور میں جمہوریت کو وردی پہنائی گئی اور ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھی گئی جسے آج ہم ہائبرڈ رجیم کے نام سے جانتے ہیں، جہاں بظاہر جمہوری ادارے موجود ہوتے ہیں مگر اصل فیصلے غیر منتخب قوتوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
(سجاد ظہیر شعر)
“خون سے لکھی گئی تحریر کو مٹنے نہ دینا
یہ جو دستور بنا ہے، اسے بکنے نہ دینا”
2006 میں بینظیر بھٹو اور
نواز شریف کے درمیان طے پانے والا میثاق جمہوریت اس ملک میں امید کی ایک کرن بنا۔ یاد رہے کہ لندن میں طے پانے والے میثاق جمہوریت جس میں پاکستان کے تمام جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں نے بھر حصہ لیا اور خاص کر امیر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو نے نمایاں تاریخی کردار ادا کیا ۔ اس معاہدے کے نتیجے میں 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ جیسے فیصلے ممکن ہوئے جنہوں نے صوبوں کو خودمختاری اور مالی اختیار دیا۔ یہ ترمیم پاکستان کی وفاقی شناخت کو حقیقی معنوں میں بحال کرنے کی کوشش تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ میثاق جمہوریت اصولی سیاست سے زیادہ مفاہمت کی علامت بن گیا اور پارلیمان کی بالادستی پھر کمزور پڑتی چلی گئی۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوگئی جس میں کہا کہ نیشنل پارٹی آئینی ترمیم میں حکومت کے ساتھ ہے۔ اس ایک جملے نے ملک کی سیاست میں ایک ہلچل پیدا کر دی۔نیشنل پارٹی کے مخالفین اور غیر نام نہاد تجزیہ نگاروں اور تبصرہ کاروں نے فیصلے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کسی نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے حکومت سے سمجھوتا کر لیا ہے، کسی نے اسے سودے بازی کا نام دیا۔ مگر چند دن بعد جب حکومتی وفد تربت پہنچا، جس میں رانا ثناءاللہ، سرفراز بگٹی اور دیگر وفاقی وزرا شامل تھے، اور انہوں نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو حقیقت سامنے آگئی۔ نیشنل پارٹی نے اپنی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے، اس لیے پارٹی اسے نہ صرف مسترد کرتی ہے بلکہ پارلیمنٹ کے اندر اور عوامی سطح پر اس کی مخالفت کرے گی۔ جب یہ موقف سامنے آیا تو وہی ناقدین جنہوں نے چند دن پہلے الزامات کی بارش کی تھی، اب انھیں سمجھ نہیں آتی ہے کہ کس طرح اپنی سطحی سوچ اور بے ہودہ پن کا کس طرح دفاع کریں ۔
نیشنل پارٹی محض بلوچستان کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ترقی پسند اور قومی جمہوری فکر کی تسلسل ہے۔ یہ جماعت دراصل نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے فکری ورثے کا تسلسل ہے۔ نیشنل پارٹی کی قیادت نے اپنے اکابرین کے فکری اثاثے کو زندہ رکھا ہے اور اپنے کردار و وژن پر ثابت قدم رہتے ہوئے یہ بھرم برقرار رکھا ہے کہ وہ میر غوث بخش بزنجو، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور میر حاصل خان بزنجو کی قربانیوں، جذبے اور جمہوری سیاسی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ ان کی سیاست کا حصہ نہیں۔ یہی تسلسل اس جماعت کو دوسرے سیاسی دھاروں سے ممتاز کرتا ہے۔
یہی سوچ دنیا کی جمہوری وفاقی روایات سے ہم آہنگ ہے۔ امریکہ میں ریاستوں کے اختیارات آئین سے محفوظ ہیں، بھارت میں صوبائی حقوق شریکِ اختیار کے اصول پر قائم ہیں، اور کینیڈا میں صوبائی اختیارات آئینی ضمانت کے ساتھ محفوظ ہیں۔ پاکستان اگر واقعی جمہوری وفاق بننا چاہتا ہے تو اسے اسی اصول پر چلنا ہوگا جہاں طاقت نیچے سے اوپر کی طرف بہتی ہے، نہ کہ اوپر سے مسلط کی جاتی ہے۔
ترقی پسند قومی جمہوری قوتوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کے بڑے خطرات طاقت کی مرکزیت، مفاہمت کے نام پر مصلحت، اور اظہار رائے پر پابندیاں ہیں۔ جب تک آئین کو عوامی شرکت، صوبائی مساوات اور آزاد مکالمے کے اصولوں پر نہیں چلایا جائے گا، اس کا وقار کاغذی رہے گا۔ آئین وہی زندہ رہتا ہے جو عوام کے ساتھ بدلتا ہے، جو ان کی آواز میں بولتا ہے۔
پاکستان کا آئین کئی بار زخمی ہوا مگر زندہ ہے کیونکہ اس کے محافظ وہ قوتیں ہیں جو جمہوریت اور وفاقیت پر یقین رکھتی ہیں۔ نیشنل پارٹی اور دیگر ترقی پسند قومی جماعتوں کی مزاحمت دراصل اسی آئین کی روح کی حفاظت ہے۔ یہ جنگ اقتدار کی نہیں، اس وعدے کی ہے جو 1973 میں عوام سے کیا گیا تھا کہ پاکستان میں طاقت نہیں بلکہ جمہوریت بولے گی۔ اور جب جمہوریت بولتی ہے تو خلق خدا جاگ اٹھتی ہے۔ یہی پاکستان کا اصل آئینی سفر ہے جو ابھی جاری ہے۔
(ن م راشد شعر )
“یہی قانونِ فطرت ہے، یہی دستورِ ہستی ہے
کہ ہر اک دور میں انسان نئے سانچے میں ڈھلتا ہے”

اپنا تبصرہ بھیجیں