سانچ: آباد گراؤنڈ، صحت مند کل کی ضمانت

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری

’جہاں گراؤنڈ آباد ہوں، وہاں اسپتال ویران ہوتے ہیں‘
اوکاڑہ کے ’شہدائے پولیس شوٹنگ بال اسٹیڈیم‘ میں گزشتہ روز ایک خوبصورت اور ولولہ انگیز منظر دیکھنے میں آیا، جہاں پنجاب پولیس اسپورٹس بورڈ کے زیرِ اہتمام ’انٹر ریجن سافٹ بال اینڈ شوٹنگ بال چیمپئن شپ 2025‘ کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ تقریب صرف ایک کھیلوں کا ایونٹ نہیں تھی بلکہ اس نے پولیس فورس کے مثبت تشخص، نظم و ضبط اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کا ایک واضح پیغام دیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ریجنل آفیسر پٹرولنگ پولیس جمیل احمد تھے، جبکہ مہمانانِ اعزاز میں ڈسٹرکٹ آفیسر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ مہر محمد یوسف اور ڈسٹرکٹ آفیسر پٹرولنگ پولیس اظہر گل شامل تھے۔ اسٹیڈیم میں موجود انتظامیہ، میڈیا کے نمائندے، سول سوسائٹی، پولیس افسران اور شائقینِ کھیل نے اس رنگا رنگ تقریب کو ایک یادگار دن بنا دیا۔’سافٹ بال ویمن ٹیم ساہیوال‘ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’گوجرانوالہ ٹیم‘ کو شکست دی اور پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ شوٹنگ بال کے فائنل میں پی ایچ پی ٹیم کے کپتان اشفاق احمد نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ایلیٹ پولیس کو مات دے کر چیمپئن ٹرافی اپنے نام کی۔ اختتامی تقریب میں دونوں ٹیموں کے کپتانوں سافٹ بال کی کائنات اور شوٹنگ بال کے اشفاق احمد کو مہمانِ خصوصی نے ٹرافیاں پیش کیں، جب کہ دیگر کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کی شیلڈز سے نوازا گیا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی جمیل احمد نے راقم الحروف(محمد مظہررشید چودھری) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا”آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور ڈی آئی جی پی ایچ پی اطہر وحیدکے احکامات کے مطابق بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ میں یہاں آ کر بہت خوش ہوا ہوں کہ نوجوان نسل کو ایک مثبت پیغام جا رہا ہے کہ وہ منشیات سے دور رہ کر صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کی طرف آئیں۔ جس قوم کے گراؤنڈ آباد ہوں، اس کے اسپتال ویران ہوتے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں میں صحت مندانہ رجحانات پیدا کرنے ہوں گے تاکہ ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہر تین ماہ بعد ضلع اور ریجن سطح پر کھیلوں کے ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں تاکہ اہلکار اپنی جسمانی فٹنس برقرار رکھ سکیں، بہتر کارکردگی دکھا سکیں اور عوامی خدمت کے فرائض مزید خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں۔ ایک صحت مند پولیس فورس ہی دراصل ایک مضبوط معاشرتی نظام کی ضامن ہے۔“ سانچ کے قارئین کرام! یہ گفتگو صرف ایک رسمی تبصرہ نہیں بلکہ ایک ویژن تھا ایک ایسی سوچ جو پولیس فورس کو محض قانون نافذ کرنے والے ادارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک صحت مند اور مثبت معاشرتی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔تقریب میں جب پنجاب پولیس شوٹنگ بال ٹیم کے کپتان اور ایونٹ کے بہترین کھلاڑی اشفاق احمد سے گفتگو کی گئی تو ان کے لہجے میں کامیابی کی خوشی اور ٹیم کے لیے فخر صاف جھلک رہا تھا۔ انہوں نے کہا’الحمدللہ، آج پنجاب پولیس انٹر ریجن شوٹنگ بال چیمپئن شپ کا فائنل پی ایچ پی پنجاب نے جیت لیا ہے۔ ہمارا فائنل ساہیوال رینج کے ساتھ تھا، جبکہ سیمی فائنل میں ہمارا مقابلہ ایلیٹ پولیس سے ہوا۔ چھ ٹیموں میں سے پی ایچ پی پنجاب نے یہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔ یہ سب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی خصوصی توجہ اور سپورٹس سرگرمیوں کے فروغ کے احکامات کا نتیجہ ہے‘۔دوسری جانب ’سافٹ بال ٹیم ساہیوال‘ کی کپتان کائنات نے بھی اپنی ٹیم کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا’ہم نے گوجرانوالہ ٹیم کو آٹھ کے لیڈ سے شکست دی۔ یہ سب ہمارے کوچ اور مینجر عزیز صاحب کی رہنمائی اور انتظامیہ کی بہترین سپورٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ہم شکر گزار ہیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے، جنہوں نے خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے اسپورٹس سرگرمیوں کے دروازے کھولے ہیں۔ آج پولیس ڈیپارٹمنٹ میں خواتین کا کردار صرف فیلڈ ورک تک محدود نہیں رہا بلکہ کھیل کے میدانوں میں بھی وہ نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں‘۔ ٹرافیوں کی چمک، کھلاڑیوں کے چہروں پر خوشی، اور اسٹیڈیم میں موجود افراد کی پرجوش داد نے واضح کر دیا کہ یہ ایونٹ صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک احساسِ فخر اور اجتماعیت کا مظہر تھا۔اگر غور کیا جائے تو ایسی سرگرمیاں ہمارے معاشرے کی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ کھیل نہ صرف جسم کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ کردار کو بھی نکھارتے ہیں۔ پولیس فورس، جو ہمہ وقت عوام کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، اگر صحت مند اور متحرک ہو تو اس کی کارکردگی بھی کئی گنا بہتر ہو جاتی ہے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور پولیس اسپورٹس بورڈ کی یہ کاوشیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے پنجاب پولیس کے نوجوان اہلکاروں میں ایک نیا جوش پیدا کیا ہے۔ ایسے ایونٹس نہ صرف فورس کے اندر مثبت توانائی پیدا کرتے ہیں بلکہ عوام کے دلوں میں پولیس کے لیے عزت و احترام کے جذبات کو بھی بڑھاتے ہیں۔اختتامی تقریب کایہ دن اوکاڑہ کے لیے، پنجاب پولیس کے لیے، اور خاص طور پر ان تمام کھلاڑیوں کے لیے یادگار رہے گا جنہوں نے عزم، مہارت اور ٹیم ورک کی نئی تاریخ رقم کی۔٭

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں