قادربخش بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارس شلنت من دیدگاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازیہ زندگی کی چودہویں بہار میں قدم رکھ چکی تھی۔لیکن وہ اپنی جسمانی ساخت میں عجیب تبدیلیاں محسوس کر رہی تھی۔میڈیکل کالج میں داخلے کے بعد وہ انتہائی خوش تھی۔چھ فٹ شازیہ کے ملکوتی حسن اور مخمور نینوں کی پرچھائیاں کالج پر اپنی چھاپ بھٹا چکی تھیں۔انہیں دیکھ کر فردوسی حور کا گمان ہوتا تھا۔۔جب پہلی بار انہیں اپنی بے پناہ حسن کا احساس ہوا۔تو کچھ مغرور ہونے لگی۔ایک رات بڑی
رازداری سے والدہ نے شازیہ سے کہا کہ عنقریب تیری شادی ڈاکٹر محراب سے کر دی جائے گی۔یہ بات آسمانی قہر بن کر شازیہ پر گری۔
چاکر اپنی ۔وزیری۔کی کرسی پر بیٹھا تھا کہ اچانک انہوں نے شازیہ کو اپنے دفتر میں داخل ہوتے دیکھا۔۔تو انہوں نے جلدی جلدی شازیہ کو ساہیڑ روم میں بھٹایا۔۔اور کہا فرمایئے بی بی کیسے انا ہوا ۔عرصہ ہوا ھے اپکو۔کہاں تھیں اپ شازیہ کے ضبط کے بندھن ٹوٹے۔اور آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے۔اور لرزتے ہونٹوں سے کہنے لگی۔محراب۔نے مجھے جلا کر راکھ کر دیا ہے۔۔مجھے چھٹی دیدیں تاکہ میں بیرون ملک جا سکوں۔مجھے بلوچی رسموں نے تباہ کردیا ھے۔۔
چاکر نے کانپتے ہاتھوں سے درخواست پر دستخط ثبط کردیئے۔اور ایک ۔آہ۔بھر کر بولے۔۔
واہ بلوچ اور کتنی شازیہ برباد کردوگے۔
مارشت سے اقتباس۔بلوچی سے اردو کا سفر۔۔قادربخش بلوچ

