تحریر: محمد مظہر رشید چودھری
اوکاڑہ کی وکلا برادری اس وقت ایک نئے انتخابی ماحول میں داخل ہوچکی ہے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ کے سالانہ انتخابات 2026 کے لیے سازگار اور سنجیدہ فضا جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونے والی پولنگ سے پہلے ہی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ تقریباً سترہ سو کے قریب ووٹرز پر مشتمل یہ بار ہمیشہ سے سیاسی حرارت، برادری کی وابستگی اور گروہی نظریات کا مرکز سمجھی جاتی رہی ہے، مگر اس مرتبہ منظر نامہ بہت حد تک تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یکم نومبر 2025 کے پنجاب بار انتخابات کے اثرات اوکاڑہ میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں ماضی کے دو بڑے اور روایتی گروپ آرائیں برادری اور راجپوت برادری اس بار اپنی روایتی تقسیم سے ہٹ کر پیشہ ورانہ بنیادوں پر فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔یہ تبدیلی کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔ سالہا سال تک اوکاڑہ بار میں امیدواروں کی کامیابی کا بنیادی انحصار برادریوں کی لکیروں پر ہوتا تھا۔ ہر الیکشن میں واضح ہوتا تھا کہ ایک طرف آرائیں برادری کے امیدوار اور دوسری طرف راجپوت حلقہ اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ لیکن 2026 کے انتخابات کی سیاسی کیمسٹری بالکل مختلف رخ اختیار کر چکی ہے۔وہ منظر قابلِ ذکر ہے کہ آرائیں برادری کے اہم وکلاء راجپوت امیدواروں کے ساتھ کھڑے ہوں، یا راجپوت گروپ کے مضبوط کارکن آرائیں امیدواروں کی حمایت میں سرگرم نظر آئیں۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو شاید پہلی بار اتنی شدت کے ساتھ سامنے آئی۔ بالکل وہی منظر جیسے 2024 کے سالانہ انتخابات میں آرائیں برادری کے سیاسی اثر رکھنے والے وکلاء نے راؤ محمد اشرف ایڈووکیٹ کو بھرپور سپورٹ کیا تھا۔ یہ پیشہ ورانہ رجحان شاید آئندہ برسوں میں وکلا سیاست کا نقشہ مکمل طور پر بدل دے۔پنجاب بار کے انتخابات میں بھاری برتری لینے والوں میں راؤ محمد اشرف ایڈووکیٹ اور چودھری امجد پرویز ایڈووکیٹ دو نمایاں نام ہیں، جو موجودہ ڈسٹرکٹ بار انتخابات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ انتخابات میں ابھی تقریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے، لیکن حمایت کے اعلانات، بیٹھکوں، کارنر میٹنگز اور ووٹرز کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔اگر امیدواروں کی پوزیشن دیکھی جائے تو 2026 کے لیے صدر کے عہدے پر راجپوت گروپ اور دیگر اتحادی گروپس کی طرف سے فاروق اشرف سنگوکا ایڈووکیٹ میدان میں ہیں، جبکہ جنرل سیکرٹری کے لیے رائے عاطف شیر کھرل ایڈووکیٹ سامنا کر رہے ہیں۔ فاروق اشرف سنگوکا کو پہلے بھی انتخابی سیاست کا تجربہ حاصل ہے؛ وہ رمضان ندیم چنڑ ایڈووکیٹ کے مقابل کھڑے ہوئے تھے جہاں چند ووٹوں کے فرق سے ناکامی ان کا مقدر بنی۔ لیکن اس بار ان کا سیاسی کیمپ ماضی سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ وہ سابق صدر بار اشرف سنگوکا ایڈووکیٹ کے فرزند ہیں، جن کے گروپ کا ووٹر ہمیشہ سے فیصلہ کن حیثیت رکھتا آیا ہے۔دوسری طرف آرائیں برادری اور دیگر برادریوں کے متحدہ گروپ نے صدر کے لیے علی عدنان قریشی ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری کے لیے طارق نسیم منگن ایڈووکیٹ کو میدان میں اتارا ہے۔ خاص طور پر طارق نسیم منگن کے اعلان کے بعد نوجوان وکلا میں جوش و خروش قابلِ دید ہے۔ ان کی کمپین نے سوشل میڈیا پر بھی واضح اثر چھوڑا ہے۔ نوجوان ووٹرز اور خواتین وکلا کی ایک بڑی تعداد ان کی حمایت میں سرگرم ہے۔وکلا کی انتخابی سرگرمیوں کا ایک نمایاں پہلو کھانے، بیٹھکوں، کمپین پارٹیز اور میٹنگز کا بڑھتا ہوا سلسلہ ہے۔ یہ روایت شاید کسی حد تک تنقید کا باعث بھی بنتی ہے، مگر وکلا سیاست کا یہ حصہ برسوں سے برقرار ہے۔ اس بار دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ خواتین وکلا غیرمعمولی حد تک فعال ہیں۔ ڈور ٹو ڈور رابطے، خواتین وکلا سے کمپین کے سلسلہ میں ملاقاتیں، خصوصی میٹنگز اور سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر یہ تمام عناصر الیکشن فضا کو نئی جہت دے رہے ہیں۔اگر الیکشن تاریخ سے ڈیڑھ ماہ پہلے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو فاروق اشرف سنگوکا ایڈووکیٹ اپنے گروپ، اتحادیوں اور خاص طور پر راؤ محمد اشرف ایڈووکیٹ کی ٹیکنیکل سپورٹ کے ساتھ نمایاں پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب جنرل سیکرٹری کے امیدوار طارق نسیم منگن کی پوزیشن بھی کمزور نہیں، ان کی کمپین کی رفتار، نوجوانوں کی شرکت اور سوشل میڈیا ان کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن چکے ہیں۔مگر اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے فیصلہ کن ووٹر کون ہے؟سترہ سو کے قریب ووٹروں میں بڑی تعداد ابھی فیصلہ کن خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ وہ ووٹر ہیں جو نہ برادری کے زیرِ اثر آتے ہیں اور نہ کسی گروپ کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے انتخابی نتائج کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں بڑے گروپس اسی ’خاموش ووٹر‘ تک پہنچنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔2026 کا انتخاب محض بار کے عہدوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اوکاڑہ بار کی نظریاتی سمت طے کرنے کا اہم موڑ بھی ہے۔ کیا وکلاء واقعی برادری کی سیاست سے آگے نکل کر پیشہ ورانہ قابلیت، شائستگی اور خدمات کی بنیاد پر ووٹ دیں گے؟ یا پھر آخری ہفتے میں روایتی تقسیم دوبارہ نمایاں ہو جائے گی؟ اس کا جواب جنوری کے دوسرے ہفتے میں سامنے آ جائے گا۔لیکن ایک بات طے ہے کہ 2026 کے انتخابات اوکاڑہ بار میں وہ تبدیلی لا رہے ہیں جس کی بنیاد وکلا نے خود رکھی ہے یونٹی، پروفیشنل ازم اور سیاسی بلوغت کی وہ لہر جو آنے والے برسوں میں اس خطے کی وکلا برادری کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔جنوری2026 آنے والا ہے، مقابلہ سخت ہے، کمپین اپنے عروج پر ہے… اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا امیدوار اس بڑے قافلے کے دل جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اور اوکاڑہ بار کا 2026 کا سال کونسی قیادت کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔٭
محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

