بلوچستان اور پارلیمانی دھوکا وعدوں کی لاشوں پر کھڑا نظام

تحریر: اورنگزیب خالد

ایک وقت تھا جب ہم جیسے نوجوان پوری یقین، جذبے اور امید کے ساتھ پارلیمانی سیاست کو تبدیلی کا واحد راستہ سمجھتے تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ایوانِ اقتدار میں بیٹھے نمائندے ہمارے مسائل سنیں گے، انصاف دیں گے اور اس دھرتی کو ترقی کی روشنیوں سے بھر دیں گے۔ مگر افسوس! آج وہی پارلیمنٹ اپنی اصل روح کھو چکی ہے، اس کا وقار بکھر چکا ہے، اور اس کا کردار محض رسمی رہ گیا ہے۔
نہ اس کے فیصلوں میں وزن ہے اور، نہ اس کے نمائندوں کی بات میں کوئی معنویت باقی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میرے جیسے بے شمار نوجوان پارلیمانی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں۔

ہم یکھتے آرہے ہیں کہ گزشتہ 78 سالوں میں اسی پارلیمانی ڈھانچے نے بلوچستان کو زخم پہ زخم دیے۔ یہ نظام ناانصافیوں کو طاقت دیتا رہا، حقوق کی پامالی کو معمول بناتا رہا، اور یہاں کے لوگوں کو ترقی کے بجائے محرومیوں اور قبرستانوں کے حوالے کرتا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ تباہی کے بڑے ذمہ دار وہی چہرے ہیں جو پارلیمان کا نام لے کر سیاست کو مفاد اور تجارت بنا چکے ہیں۔

جس ایوان کے منتخب ارکان کو نہ سنا جائے، نہ انہیں اختیار دیا جائے، نہ انہیں فیصلوں میں شامل کیا جائے تو ایسی پارلیمنٹ کی حیثیت خاک کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ ہمارے ملک میں سیاست عبادت کے بجائے بازار بن چکی ہے جہاں سودے ہوتے ہیں، نتیجہ یہ کہ امیر طاقتور مزید طاقتور اور غریب مزید مجبور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

آج کی پارلیمنٹ ایک ایسے ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، اختیارات کہیں اور منتقل ہیں، اور ایوان محض تماشائی کی طرح کھڑا تالی بجاتا رہ جاتا ہے۔ ایسے مردہ ادارے سے بہتر مستقبل کی امید رکھنا خود فریبی ہے۔
بلوچستان جیسی محروم دھرتی ہمیشہ ایسے نمائندوں کے ہاتھوں میں رہی جو اسلام آباد کے ایوانوں میں اپنی آواز لے کر گئے، اپنے لوگوں کی نہیں۔ یوں یہاں احساسِ محرومی نے نسلوں کو بے چین کر دیا۔ جب پارلیمنٹ اپنے لوگوں کی آواز نہ بن سکے، تو نوجوانوں کے دل میں مایوسی اور بیزاری کے بیج ضرور اگتے ہیں اور یہی آج بلوچستان کی تلخ تصویر ہے۔

ملک کی مضبوطی، ترقی اور خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب پارلیمان کو اصل اختیار دیا جائے۔ فیصلے بند کمروں کے بجائے عوامی ایوان میں ہوں۔ نمائندے مہرے نہیں، کردار ہوں۔ انصاف محض نعرہ نہیں، عمل بنے۔

اگر پارلیمان کو طاقت، اختیار اور وقار نہیں ملا تو یہ نظام یوں ہی ریت کی دیوار کی طرح بکھرتا رہے گا اور بلوچستان جیسے خطے یوں ہی اپنی محرومیوں کے ساتھ زندہ دفن ہوتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں