سانچ :’وارث علی حیدری‘ کردار، صحافت اور رفاقت کی ایک تاریخ

محمد مظہررشید چودھری

اوکاڑہ کی صحافت میں بعض نام ایسے ہیں جو صرف رپورٹر یا نمائندہ نہیں ہوتے، وہ شہر کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوتے ہیں۔ وہ گلی محلوں، تھانوں، عدالتوں اور انتظامی دفاتر میں یوں رسائی رکھتے ہیں جیسے یہ سب اْن کی صحافتی دنیا کے دروازے ہوں۔ وارث علی حیدری مرحوم بھی انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کی رخصتی نے اوکاڑہ کے صحافتی حلقوں میں ایسا خلا چھوڑا ہے جو برسوں میں بھی پْر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
میری ان سے پہلی ملاقات آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ یہ جون 2000 کے آخری ایام تھے۔ میں جامعہ محمدیہ چوک میں واقع شفیق الرحمن شیخ (سابق جنرل سیکرٹری اوکاڑہ پریس کلب) کے دفتر میں خبروں کے سلسلے میں موجود تھا کہ ایک دھیمے مزاج کا نوجوان اندر داخل ہوا۔ وہی نوجوان بعد میں اوکاڑہ کی صحافتی دنیا کا ایک معتبر حوالہ بننے والا تھا’وارث علی حیدری‘۔ رسمی سلام دعا کے بعد اس دن جو تعارف ہوا، وہ وقت کے ساتھ احترام، بھائی چارے اور پیشہ ورانہ تعلق میں بدلتا چلا گیا۔ مجھے شفیق الرحمن شیخ نے بتایا کہ وارث علی حیدری اْس وقت بانی/ چیئرمین اوکاڑہ پریس کلب منیر چودھری کے قریبی ساتھی اور اْن کے اسسٹنٹ کے طور پر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ منیر چودھری اس دور میں روزنامہ جنگ و جیو کے اوکاڑہ میں طاقتور ترین نمائندہ تھے، ضلع اوکاڑہ میں اْن کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا، اور وارث علی حیدری مسلسل انہی کی رہنمائی میں اپنی صحافتی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ راتیں بھی پریس کلب کے انہی کمروں میں گزار دیتے، جہاں سے ان کی صحافتی زندگی نے نئی سمتیں لینی تھیں۔ان کی خبریں روزنامہ جنگ میں شائع ہوتیں تو اندازِ تحریر سے فوراً پہچان آ جاتی کہ یہ وارث علی حیدری کی محنت اور باریک بینی کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر کرائم رپورٹنگ میں وہ جس مہارت سے کام کرتے تھے، وہ اس دور میں اوکاڑہ میں بہت کم لوگوں کے پاس تھی۔ ضلع کے کسی تھانے، کسی چوکیدار، کسی محرّر سے خبر نکلوانا ہو تو وارث حیدری کی پہنچ اور اعتبار ہی کافی ہوتا تھا۔سال 2002 میں وہ پہلی بار میرے دفتر تشریف لائے صحافت /سیاست / سماجی تنظیم ’ماڈا‘ کی سرگرمیوں اور پریس کلب اوکاڑہ کی ممبرشپ کے لیے بات چیت ہوئی۔ وقت گزرتا گیا، وہ صحافت میں پختگی حاصل کرتے گئے، تعلقات وسیع تر ہوتے گئے، اور پھر 2015 میں وہ باقاعدہ روزنامہ جنگ اور جیو نیوز کے اوکاڑہ میں نمائندہ مقرر ہوئے۔ یہ ان کی محنت اور مستقل مزاجی کی عملی تائید تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس کی اطلاع ہمیں اْس وقت کے ڈی پی او محمد فیصل رانا نے ایک پریس کانفرنس میں دیتے ہوئے دی اور انہیں مبارکباد بھی پیش کی۔بعد ازاں وارث علی حیدری نے اوکاڑہ پریس کلب کو خیر باد کہہ کر اپنا ذاتی آفس قائم کیا جہاں سے وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی خبریں اور رپورٹیں اپنے ادارے کو ارسال کرتے رہے۔ یہ ان کا ایک بڑا فیصلہ تھا، کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ صحافتی شناخت صرف اداروں یا عہدوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ انسان کی اپنی ساکھ، محنت اور کردار اس کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ان کا شہر کے سیاسی و سماجی حلقوں سے گہرا تعلق تھا۔ خاص طور پر اوکاڑہ کی معروف’نعمت فیملی‘سے ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں میں یکساں احترام پاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کوئی پریس کانفرنس ہو، کوئی بڑا واقعہ یا کوئی انتخابی سرگرمی وارث علی حیدری وہاں ضرور موجود ہوتے تھے۔جنرل انتخابات کے دنوں میں تو وہ مجھ سے اکثر رابطہ کرتے اور مجھ سے پوچھتے کہ میں کون سا پولنگ اسٹیشن کور کر رہا ہوں تاکہ وہ خبر کی درستگی کو یقینی بنا سکیں۔ان کے اندر ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ ذاتی دکھ، خوشی اور تعلقات کو دل سے نبھاتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی والدہ کو کھویا تو میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں وہ بے بسی دیکھی جو صرف ماں کی جدائی ہی میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹی کی شادی ہو یا والدہ کا ختم ہر بار خصوصی طور پر بلایا اور اصرار کیا۔ سانچ کے قارئین کرام! راقم الحروف کی والدہ کے انتقال پر انہوں نے جس محبت اور دلی افسوس کا اظہار کیا، وہ میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔اسی بے لوث محنت، مسلسل جدوجہد اور صحافتی راست گوئی کے طویل سفر کے بعد وارث علی حیدری شدید علالت کے باعث 6 نومبر 2025 کو اتفاق ہسپتال لاہور میں خالقِ حقیقی سے جا ملے،ان کے انتقال کے دن جب میں نے ان کے بیٹے کو غم سے نڈھال دیکھا، تو دل بھر آیا۔ باپ کا سایہ اْٹھ جانا کسی بچے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا زخم ہوتا ہے۔صحافت کے میدان میں وارث علی حیدری نے وہ روایت بھی قائم کی جسے آج بہت لوگ اپناتے ہیں سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات کے ٹیلی فونک بیانات کو بروقت اور درست انداز میں اخبار تک پہنچانا۔ اوکاڑہ کی سطح پر یہ ایک نئی روایت تھی جسے انہوں نے پروفیشنل سماج میں متعارف کرایا۔وہ ایک چلتا پھرتا ادارہ تھے، ایک جیتا جاگتا باب، ایک سچا محنتی صحافی۔آج جب ہم ان کو یاد کرتے ہیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اوکاڑہ کی صحافت نے ایک ایسا چراغ کھو دیا ہے جس کی روشنی پچیس برس تک اس شہر کی خبروں کو معتبر بناتی رہی۔اللہ تعالیٰ وارث علی حیدری مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔آمین

اوکاڑہ کے معروف صحافی مرحوم وارث علی حیدری کے ہمراہ صحافتی میدان کے دیگر نمایاں نام مرحوم ناصر وحید، محمد اسلم پراچہ اور محمد مظہر رشید چودھری، شیخ محمد اظہر کی یادگار تصویر، جو صحافت میں ان کے خدمات اور رفاقت کی یاد دلاتی ہے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں