تحریر : حفیظ شیران
گزشتہ دنوں ہمیں مہربان اور محترم دوست، سیاسی و سماجی شخصیت واجہ بجار بلوچ اور انگریزی روزنامہ ڈان سے وابستہ معروف صحافی بہرام بلوچ کے ساتھ کراچی سے گوادر تک سفر کا موقع ملا۔ مکران کے ساحل پر آباد خوبصورت ساحلی خطہ کلمت (Kalmat Hor) کے متعبر شخصیت لیاقت بلوچ کے پرخلوص اصرار پر ان کے ہاں ظہرانے اور مہمان نوازی کا اہتمام تھا۔ یہ لمحہ ہمارے اس سفر کی پہلی اور ناقابلِ فراموش خوشی ثابت ہوا۔
کلمت کا یہ دورہ ایک عام سفر نہیں تھا، بلکہ مشاہدے، دریافت اور احساسات کا تسلسل تھا۔ یہ بستی بظاہر وسائل میں محدود ہے، مگر جب قریب جا کر دیکھا تو سمندر کی وسعت، نمکین ہوا کی تیزی، لہروں کے زیرِدام جھولتی مینگرووز اور لوگوں کے دلوں میں دھڑکتی امید نے ہمیں مسحور کردیا۔ ہم ساحل کی نرم ریت پر چلتے رہے، ماہی گیروں اور نوجوانوں سے ملے اور اس دھرتی کے زندہ مگر دھیمے بہاؤ کو محسوس کیا۔
کلمت ہور ایک وسیع قدرتی لاگون ہے جو بحیرہ عرب سے ایک باریک مگر طاقتور نہری رابطے کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ اس کا رقبہ ایک سو مربع کلومیٹر سے زائد بتایا جاتا ہے۔ فضا سے دیکھا جائے تو یہ ایک سرسبز درخت کی شاخوں کی مانند پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اردگرد کی آبادی زیادہ تر ماہی گیری پر منحصر ہے۔ یہ سمندر ان کی زندگی بھی ہے اور معیشت کی نبض بھی۔
یہ علاقہ محض حسین مناظر کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل اور حساس ماحولیاتی نظام ہے۔ یہاں Avicennia marina کی مینگرووز سمندری حیات کا گہوارہ ہیں۔ جھینگا، مچھلی اور کیکڑا اسی کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں، اسی لیے ماہی گیری یہاں کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور اسی پر روزگار کا دارومدار قائم ہے۔
کلمت میں ہمیں سب سے زیادہ متاثر کن پہلو تعلیم کے ذریعے معاشرتی تبدیلی کا نظر آیا۔ یہاں کا سرکاری اسکول فعال ہے، روزانہ تدریس ہوتی ہے اور شام کے وقت یہی اسکول ایک مفت کوچنگ سینٹر کا روپ دھارتا ہے جہاں بچوں کو انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بچیاں بھی شام کو بڑی لگن اور جوش کے ساتھ ان کلاسز میں شریک ہوتی ہیں۔ یہی وہ منظر تھا جس نے دل میں امید جگائی کہ یہاں کے لوگ تعلیم کو محض لفظ نہیں بلکہ مستقبل سمجھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اسی مقام پر یہ محرومی بھی محسوس ہوئی کہ یہاں گرلز ایجوکیشن کو بھی پروموٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ بچیاں بھی اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھ سکیں اور مستقبل میں اپنے معاشرے کا روشن چہرہ بن سکیں۔
کلمت کا معاشرہ ماضی میں مذہبی پیشواؤں کے اثرات کے زیرِ اثر رہا ہے مگر اب نوجوانوں میں شعور کی تازہ لہر جنم لے رہی ہے۔ گفتگو، انداز اور چہروں پر شعور کی نئی روشنی محسوس ہوئی۔ یوں لگا کہ تعلیم نے زنجیریں ڈھیلی کرنا شروع کر دی ہیں اور ذہنوں میں نئے سوال، نئے امکانات اور آزاد سوچ پنپ رہی ہے۔ یہ تبدیلی خاموش ضرور ہے مگر واضح بھی ہے۔
زندگی یہاں پرسکون ہے مگر چند ضروری مسائل ہنوز توجہ کے طلبگار ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ پانی کی فراہمی مستقل حل نہ ہونے کے باعث اب بھی ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ شادی کور ڈیم یا دیگر قریبی ذخائر سے مستقل پائپ لائن بچھا کر گھریلو اور تجارتی ضروریات پوری کی جائیں۔ بجلی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں بجلی کے لیے لوکل پاور ہاؤس اور چھوٹے جنریٹرز پر انحصار کیا جاتا ہے جن سے روزانہ صرف چھ گھنٹے بجلی فراہم ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب اس خطے کو مستحکم بجلی نظام حاصل ہوگا؟ کیونکہ تعلیم، صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا انحصار اب بجلی کے تسلسل پر ہے۔
حیرت انگیز طور پر یہاں نہ تھانہ ہے نہ پولیسنگ کا باقاعدہ نظام مگر امن کی فضا مثالی ہے۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کی تعلیمی معاونت اور مقامی رضاکارانہ کردار اس مثبت ماحول کو مستحکم رکھتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے اپنے ایم پی اے کی کارکردگی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا، اگرچہ انہیں الیکشن میں یہاں سے محض ایک ووٹ ملا تھا۔ یہ سیاست اور خدمت کا ایک خوبصورت اور معتبر پہلو تھا۔
واپسی کے راستے ہمارے ساتھ سمندر کی سرگوشیاں، مینگرووز کی نمی، لوگوں کا خلوص اور بچوں کی آنکھوں میں چمکتی امید ہمرکاب رہی۔ تب محسوس ہوا کہ ترقی کا مطلب صرف عمارتیں، ڈامر اور اسٹیل نہیں—کبھی وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی شام کی کلاس میں بیٹھی بچی کے خواب میں بھی لکھی ہوتی ہے۔ ہمارے دل نے یہ جان لیا کہ کلمت ایک مقام نہیں، ایک احساس ہے۔ امید ہے۔ امکان ہے۔ اور ایک ایسی یاد ہے جو وقت کے بہاؤ میں بھی نمی اور مہک برقرار رکھے گی۔

