صحافت کو مشینی رفتار نہیں انسانی بصیرت درکار ہے

اے آر طارق
صحافت کبھی لفظوں کی شعبدہ بازی نہیں رہی۔ یہ ضمیر کی عدالت تھی، شعور کی امانت تھی اور سچائی کی وہ گواہی جس پر معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ کالم نگاری محض پیراگراف جوڑنے کا فن نہیں تھا۔ یہ فکری ریاضت کا حاصل، مطالعے کی آگ میں تپ کر نکھرنے والی رائے اور ذاتی مشاہدے کی سچائی سے مہکنے والا بیان تھا مگر آج اس مقدس پیشے کے چہرے پر ایک چمکدار نقاب ہے اور اس نقاب کے پیچھے سناٹا ہے۔ہم نے سکرین کی روشنی کو بصیرت سمجھ لیا ہے۔ کی بورڈ کی ٹک ٹک کو ذہانت کا ثبوت مان لیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی دشمن ہے یا دوست۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے اوزار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یا اسے اپنے ضمیر کا متبادل بنا چکے ہیں؟ سہارا اور بیساکھی میں فرق ہوتا ہے۔ سہارا قدم مضبوط کرتا ہے۔ بیساکھی قدموں کو کمزور کر دیتی ہے۔
کالم نگاری کا حسن یہ تھا کہ قاری لفظوں کے بیچ سے لکھنے والے کی سانس سنتا تھا۔ لہجے کی کاٹ، استدلال کی حرارت اور تجربے کی خوشبو تحریر سے پھوٹتی تھی۔ آج بہت سی تحریریں ایسی ہیں جن میں جملے مکمل ہیں مگر روح ندارد۔ دلائل موجود ہیں مگر درد غائب۔ الفاظ چمکدار ہیں مگر پس منظر کھوکھلا۔ یہ تحریریں زندگی سے نہیں سکرین سے جنم لیتی ہیں۔ ہم کالم نہیں لکھ رہے، مواد تیار کر رہے ہیں اور مواد کبھی موقف نہیں بنتا، صرف جگہ بھرنے کا کام کرتا ہے۔افسوس اس بات کا نہیں کہ جدید ذرائع سے مدد لی جا رہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مدد کو متبادل بنا لیا گیا ہے۔ جو لکھاری کبھی ایک پیراگراف سے پہلے کئی کتابوں کی خاک چھانتا تھا آج چند ہدایات دے کر پورا کالم حاصل کر لیتا ہے۔ جو کبھی دلیل تراشنے کے لیے راتیں جاگتا تھا آج منٹوں میں تیار شدہ متن اپنے نام سے شائع کروا لیتاہے۔ یہ سہولت نہیں خود فریبی ہے۔ یہ ذہانت نہیں امانت میں خیانت ہے اور امانت میں خیانت جب معمول بن جائے تو پیشہ مر جاتا ہے صرف پیشہ ور باقی رہ جاتے ہیں۔
سب سے بڑا نقصان اُن لوگوں کا ہو رہا ہے جو اب بھی قلم کو ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جو اپنی تحریر کو اپنے لہو سے سینچتے ہیں۔ وہ قطار میں پیچھے کھڑے ہیں۔ ان کے کالم ایڈیٹوریل میزوں پر انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور مشینی جملوں کے ڈھیر تیزی سے شائع ہو جاتے ہیں۔ معیار ہار رہا ہے مقدار جیت رہی ہے۔گہرائی پس منظر میں ہے رفتار اسٹیج پر۔ یہی وہ لمحہ ہے جب صحافت کا وقار داؤ پر لگ جاتا ہے اور شاید ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔کیا واقعی ان ناموں کی شان بڑھ رہی ہے جو تیار شدہ متن کو اپنا کہہ کر پیش کرتے ہیں؟ وقتی طور پر شاید ان کے تعارف کے ساتھ ”سینئر“اور ”تجزیہ کار“کے سابقے جڑ جائیں مگر اندر کہیں ایک خلا جنم لیتا ہے۔ لکھنے والا سب سے پہلے خود کو قائل کرتا ہے۔ جب تحریر اپنی نہ ہو تو قائل ہونا ممکن نہیں رہتا صرف دکھاوا رہ جاتا ہے اور دکھاوا کبھی تاریخ میں جگہ نہیں بناتا۔ایڈیٹوریل ٹیمیں بھی اس گرداب سے محفوظ نہیں۔ ان کے سامنے مواد کے انبار ہیں۔زبان درست، ساخت مکمل، پیراگراف ترتیب وار مگر سب ایک جیسے۔ روح کے اعتبار سے یکساں، تاثیر کے لحاظ سے بے جان۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کون سی تحریر واقعی فکر کی پیداوار ہے اور کون سی محض ترتیب دیئے گئے جملوں کا مجموعہ۔ نتیجہ یہ کہ اخبارات اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔ جب ہر کالم ایک سا لگنے لگے تو اخبار اور ویب سائٹ میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟
یہ صرف پیشہ ورانہ بحران نہیں ہے بلکہ اخلاقی بحران ہے۔ صحافت اعتماد پر کھڑی ہوتی ہے۔ قاری یہ سمجھ کر کالم پڑھتا ہے کہ یہ کسی صاحبِ قلم کی ذاتی رائے اور تجربے کا نچوڑ ہے۔ اگر وہ دراصل ایک مشینی ترتیب ہو جس پر صرف انسان کا نام چسپاں ہو تو یہ قاری کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ ہے اور اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو لفظوں کے سمندر بھی اسے واپس نہیں لا سکتے۔کچھ لوگ کہتے ہیں زمانہ بدل گیا ہے۔ ذرائع بدل گئے ہیں۔اس لیے طریقے بھی بدلنے چاہئیں۔طریقے بدلیں دیانت نہیں۔رفتاربڑھے اصول نہیں بکھریں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال عیب نہیں۔اس کی آڑ میں اپنی فکری کمزوری چھپانا عیب ہے۔ اگر لکھاری سوچنے، تحقیق کرنے اور جملہ تراشنے کی صلاحیت کھو دے تو وہ محض نام کا لکھاری رہ جاتا ہے اور نام کبھی تحریر نہیں لکھتا انسان لکھتا ہے۔یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ہر اس قلم کار کے لیے جو روز شائع ہو رہا ہے مگر خود سے سوال نہیں کرتا کہ اس کے لفظ کہاں سے آ رہے ہیں۔ کیا وہ اپنے تجربے کی روشنی بانٹ رہا ہے یا کسی سانچے میں ڈھلے خیالات کو اپنا رنگ دے رہا ہے؟ کیا وہ آنے والی نسل کو تخلیق سکھا رہا ہے یا شارٹ کٹ؟
صحافت کو مشینی رفتار نہیں انسانی بصیرت درکار ہے۔ اسے ایسے لکھاری چاہئیں جو اختلاف کی قیمت ادا کر سکیں۔جو تحقیق میں پسینہ بہائیں۔جو اپنے مؤقف کے لیے تنہا کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اگر ہم نے آسان راستے کو کامیابی سمجھ لیا تو کل ہر شخص چیٹ جی پی ٹی پر چند ہدایات لکھ کر ”کالم نگار“بن جائے گا اور اصل محنت کرنے والا پس منظر میں چلا جائے گا۔ یہ صرف پیشے کے ساتھ ناانصافی نہیں معاشرے کے ساتھ بھی دھوکا ہے۔یہ تحریر کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک روئیے کے خلاف ہے۔ یہ طمانچہ کسی چہرے پر نہیں بلکہ اس سوچ پر ہے جو محنت سے فرار چاہتی ہے۔ یہ آئینہ ان سب کے سامنے ہے جو لفظوں کی امانت کو ہلکا سمجھ بیٹھے ہیں۔ فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ وقتی شہرت کے مسافر بننا ہے یا تاریخ کے اوراق میں سچائی کے گواہ؟اگر صحافت کو زندہ رکھنا ہے تو قلم کو اس کی اصل جگہ واپس دینا ہوگی۔ مشین مددگار ہو سکتی ہے متبادل نہیں۔ نام انسان کا ہو تو فکر بھی انسان کی ہونی چاہیے ورنہ آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گااور نہ وہ قاری جو آج خاموش ہے مگر کل پوچھے گا جنہیں ہم لکھاری سمجھتے رہے وہ دراصل تھے کون؟

اپنا تبصرہ بھیجیں