مجیب الرحمٰن شامی
دنیا بھر کا ناطقہ بند کرنے کی کوششوں میں مصروف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ ہی کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ جاری کر کے ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے مختلف ممالک کی درآمدات پر جو ٹیرف عائد کیے ہیں‘ ان کو اس کا قانونی اختیار نہیں تھا‘ گویا کانگرس کی اجازت کے بغیر وہ اس طرح کے اقدامات نہیں کر سکتے تھے۔ جنابِ صدر اس پر سیخ پا ہیں اور اس فیصلے کو شرمناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عوام کے مفاد کے خلاف ہے‘ عدالتوں کا کچھ کرنا پڑے گا۔ ان کے نائب صدر بھی سپریم کورٹ پر برسے ہیں اور فیصلے کو غیرقانونی قرار دے ڈالا ہے۔ جنابِ صدر نے یقین دلایا ہے کہ ان کے پاس متبادل پلان تیار ہے‘ گویا وہ عدالتی فیصلے کو غیر مؤثر بنائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے‘ صدر ٹرمپ اس دھچکے کو کیسے برداشت کرتے ہیں اور سپریم کورٹ ان کے لگائے ہوئے دھچکے سے کیسے عہدہ برآ ہوتی ہے‘ یہ کانگرس جانے‘ صدر ٹرمپ جانے‘ سپریم کورٹ جانے اور ان کے عوام جانیں‘ جو بات دنیا بھر کی دلچسپی کا سامان بن رہی ہے وہ سپریم کورٹ کی درگت ہے جو جنابِ صدر اور ان کے رفقا کے ہاتھوں بنائی جا رہی ہے۔ امریکی تاریخ کا یہ (شاید) پہلا واقعہ ہو گا کہ کسی صدر نے کسی سپریم کورٹ کے حکم پر اس طرح کا ردِعمل ظاہر کیا ہو‘ حاضر سروس وزرا نے اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں پر لاقانونیت کے الزامات لگائے ہوں۔
امریکہ کو اپنی اقدار پر بڑا ناز رہا ہے۔ جمہوریت‘ انسانی حقوق اور قانون کی حاکمیت کے نعرے اس کے ہر صدر کی زبان پر رہے ہیں‘ اس سے قطع نظر کہ ان پر عمل کس حد تک ہوا اور کہاں کہاں سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا‘ امریکہ بزعمِ خود ”آزادی اور جمہوریت‘‘ کے لیے نعرہ زن رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کے تحفظ کے نام پر ہنگامے کھڑے کرتا رہا ہے۔ امریکہ جنگ عظیم دوم کے بعد کئی جنگوں میں کودا‘ کوریا‘ ویتنام‘ افغانستان‘ عراق‘ جگہ جگہ اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ اس کی معیشت ہی جنگ جوئی پر انحصار کرتی ہے۔ اس نے خوفناک ہتھیار بنائے ہیں‘ انہیں اونچے داموں فروخت کیا ہے اور تنازعات کو بھی ہوا دی ہے۔ اس کے مقابل سوویت یونین ابھرا‘ اس نے بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن بالآخر اس کی معیشت ہانپ کر رہ گئی۔ وہ اپنے وفاق کو قائم نہ رکھ سکا۔ اس کی اکائیاں بٹ کر رہ گئیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد چین ایک بڑی معاشی اور جنگی طاقت بن کر ابھر رہا ہے لیکن وہ امریکہ سے الجھنے پر تیار نہیں ہے۔ امریکہ اپنی من مانیوں کے ذریعے اپنی مشکلات میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے‘ اس کے حریفِ اول کو یقین ہے کہ وہ اپنے داخلی اور خارجی مسائل میں الجھ کر اپنا قد چھوٹا کرتا چلا جائے گا‘ اس سے براہِ راست پنجہ آزمائی کی ضرورت نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات نے جہاں دنیا بھر کو بے یقینی میں مبتلا کیا ہے وہاں امریکی معاشرہ داخلی خلفشار کے خطرے سے بھی دوچار ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ سے ہتھ جوڑی کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے‘ اداروں کی ساکھ کو نقصان تو پہنچے گا۔ ادارے کمزور ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی کھوکھلی ہو کر رہ جاتی ہے۔ کسی معاشرے میں اگر اندرونی اختلافات اور تنازعات کو طے کرنے کا میکانزم مؤثر نہ رہے تو پھر اسے یکجا رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اگر داخلی مسائل کسی قاعدے یا ضابطے کی بنیاد پر حل نہ کیے جا سکیں تو طاقت اپنا راستہ آپ بنا لیتی ہے۔ طاقت پر ریاست کی اجارہ داری نہ رہے تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
امریکہ میں ایک طرف داخلی مسائل سر اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف خارجہ امور ہچکولوں کی زد میں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ”غزہ امن بورڈ‘‘ کا اجلاس بلا کر ایک طرف غزہ کی تعمیر نو کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف ایران کے خلاف یلغار کی تیاریاں بھی زوروں پر ہیں۔ امریکی بحری بیڑے ایران کے گرد جمع ہو رہے ہیں‘ امریکہ ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرانے کے ساتھ ساتھ میزائل کی تیاری کا حق بھی اس سے چھین لینے کے در پے ہے۔ اسرائیل اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے بلکہ شہہ دینے میں مصروف ہے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ اسرائیل تک مار کرنے والے میزائل ایران کے اسلحہ خانے میں موجود رہیں۔ ایران کے ہمسایہ عرب ممالک (جہاں امریکی اڈے موجود ہیں) سخت اضطراب میں ہیں۔ ایران کی طرف سے ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایران پر امریکی حملے کی نوبت آئی تو دنیا کا نقشہ یکسر بدل جائے گا۔ یہ جنگ کس قدر طویل اور ہلاکت خیز ہو گی‘ اس بارے میں اندازے لگائے جا رہے ہیں لیکن یہ مختصر ہو یا طویل اس کے سنگین اثرات اور نتائج کے بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو صدر ٹرمپ کی طرف سے تحسین کے الفاظ مسلسل مل رہے ہیں۔ غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں بھی ان پر پھول نچھاور کیے گئے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھی صدر ٹرمپ کو جنوبی ایشیا میں بڑی تباہی رکوانے پر خراجِ تحسین کا اعادہ کیا لیکن انہوں نے دو ٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر کے واضح کر دیا کہ پاکستان اس حوالے سے کسی مصلحت سے کام لینے پر تیار نہیں ہے۔ پاکستان اپنے برادر مسلمان ممالک کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عالمِ اسلام کے رہنماؤں کو ایران کے معاملے میں بھی سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا۔ صدر ٹرمپ کا ہاتھ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ ایران کے ساتھ کسی بھی طور جنگ کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا‘ کویت‘ قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر پاکستان کو سفارتی محاذ پر جان لڑا دینی چاہیے۔
مسلمان ممالک کو روس اور چین کے ساتھ بھی رابطہ کرنا چاہیے۔ روس یوکرین کی جنگ میں اُلجھا ہوا ہے‘ اس سے کوئی توقع نہ لگائی جائے تو بھی چین سے مؤثر سفارت کاری کی امید لگائی جا سکتی ہے۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے‘ جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادلوں کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن سکیورٹی کونسل اس وقت تک کچھ نہیں کر پائے گی جب تک امریکہ کو قائل نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ ایران کا جغرافیہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہاں آگ لگے گی تو تپش ہمیں بھی محسوس ہو گی۔ ایک مضبوط اور پُرامن ایران ہمارے قومی مفاد کا اولین تقاضا ہے۔ امریکہ اگر اسرائیل کے عزائم کو پورا کرنے میں لگ گیا تو یہ خطہ غیرمستحکم اور غیرمحفوظ ہو جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فی الفور اس طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ بیجنگ سے لے کر ریاض اور انقرہ سے لے کر ماسکو تک رابطے تیز کیے جائیں۔ جنگ کو روکنا سب کے مفاد میں ہے۔ اگر دنیا کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا‘ طاقت کو کھلی چھٹی مل گئی تو پھر جگہ جگہ جنگیں شروع ہو جائیں گی‘ یہ دنیا جہنم بن کر رہ جائے گی۔
Load/Hide Comments

