بلوچستان، ضلع خضدار اور بارکھان میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 9 مزدور اغوا

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان کے ضلع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 9 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیاگیا۔پولیس کے مطابق گزشتہ روز خضدار سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مولہ کے علاقے میں زیرِ تعمیر واٹر چینل منصوبے پر کام کرنے والی ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دھاوا بولا۔حملہ آوروں نے کیمپ میں موجود ڈبل کیبن گاڑی میں چھ مزدوروں کو زبردستی بٹھایا اور انہیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیار شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دو مزدوروں کا تعلق سندھ جبکہ باقی چار کا تعلق ضلع خضدار سے ہے۔دوسری جانب بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کریش پلانٹ پر بھی مسلح افراد نے سنیچر کو حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق 20 سے زائد مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور تین مزدوروں کو اغوا کر کرکے قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہو گئے۔ مغوی مزدوروں کا تعلق بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل سے بتایا جا رہا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کرش پلانٹ سے کچھ فاصلے پر قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور وہاں تعینات تین پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا جبکہ اس دوران ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں