سود سے پاک مالیاتی نظام کا نفاذ پاکستان کی معیشت کیلئے ایک تاریخ ساز مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

معیشت کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنا خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم مرحلہ وار، محتاط اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ناگزیر ہے،بیان
کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان کو سود سے پاک مالیاتی نظام کی جانب منتقل کرنے کیلئے جامع، مربوط اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ یہ تبدیلی مرحلہ وار، مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے اور قومی معیشت کو کسی قسم کے جھٹکے سے محفوظ رکھتے ہوئے عمل میں لائی جا سکے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معیشت کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم 2027 کے بعد اسلامی مالیاتی نظام کا مکمل نفاذ متعدد قانونی، انتظامی، تکنیکی اور مالیاتی چیلنجز سے مشروط ہوگا۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کو بھی شریعت سے ہم آہنگ اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ موجودہ سرکاری قرضوں کو اسلامی مالیاتی ذرائع، بالخصوص سکوک، میں منتقل کرنا اس عمل کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ اس کے ساتھ وفاقی و صوبائی قوانین میں ضروری ترامیم، مالیاتی ضوابط کی ازسرنو تشکیل اور روایتی بینکاری کے عملے کو اسلامی مالیات کی جامع تربیت فراہم کرنا بھی ناگزیر ہوگا، تاکہ دسمبر 2027 تک مطلوبہ قانونی اور انتظامی تیاری مکمل کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظام میں اچانک تبدیلی سے عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے تدریجی اور منظم منتقلی ہی سب سے موزوں اور قابلِ عمل راستہ ہے۔ اس قومی مقصد کی کامیابی حکومت، اسٹیٹ بینک، مالیاتی اداروں، نجی شعبے اور ماہرینِ اسلامی مالیات کے درمیان مؤثر تعاون اور ہم آہنگی پر منحصر ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ سود سے پاک مالیاتی نظام سرمایہ کاری کو حقیقی معاشی سرگرمیوں سے منسلک کرنے، منافع و نقصان کی منصفانہ شراکت کو فروغ دینے، کاروباری اعتماد میں اضافہ کرنے، اسلامی بینکاری کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ کرنے اور مالیاتی شمولیت کو وسعت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے بھی متبادل سرمایہ کاری اور مالی سہولیات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ قومی معیشت میں استحکام، شفافیت اور پائیدار ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ اس اہم قومی تبدیلی کی کامیابی صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر نگرانی، عالمی مالیاتی تقاضوں سے ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے فروغ سے مشروط ہے۔ اگر حکومت مقررہ مدت کے اندر ان چیلنجز پر مؤثر انداز میں قابو پا لیتی ہے تو سود سے پاک مالیاتی نظام پاکستان کی اقتصادی سمت میں ایک تاریخی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے اور ملک کو عالمی اسلامی مالیاتی نظام میں ایک نمایاں مقام دلانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں