نیورا لِنک چپ لگوانے والے مفلوج افراد دماغ سے ڈیوائسز کنٹرول کرنے لگے!

ایلون مسک کے نیورالِنک برین چپ کے تجربے میں شامل ہونے والے ابتدائی ٹیسٹرز نے اپنے دماغ کی مدد سے روبوٹک بازو کامیابی کے ساتھ استعمال کر لیا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راکی اسٹوٹن برگ (جو 2006 میں چوٹ لگنے کے باعث گردن کے نیچے سے مفلوج ہیں) نے اپنے خیالات کی مدد سے ایک روبوٹک بازو کو حرکت دینے کا مظاہرہ کیا۔

راکی اسٹوٹن برگ اس سے قبل امور انجام دینے کے لیے کچھ معاون ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا کرتے تھے جس میں ایک ماؤتھ-آپریٹڈ کنٹرولر شامل تھا اور اس کی مدد سے وہ ویڈیو گیم کھیلتے تھے۔

تجربے میں شامل ایک اور شخص نے سوچ کی مدد سے روبوٹک بازو کو استعمال کرتے ہوئے کپ اٹھایا ہوا اور اس سے مشروب پیا۔

نیورا لِنک نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ کلینکل ٹرائلز میں شامل شرکاء نے ڈیجیٹل کمپیوٹر کنٹرول کو روبوٹک بازو جیسی فزیکل ڈیوائسز تک بڑھا لیا ہے۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ کمپنی آگے چل کر متعدد ایسی ڈیوائس کا منصوبہ رکھتی ہے جس کو نیورا لِنک کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں