انڈیا نے چینی ماہرین کے لیے ویزا قوانین آسان کر دیے

انڈیا نے غیر ملکی انجینیئروں اور تکنیکی ماہرین کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اپنے کاروباری ویزا نظام میں اصلاحات کی ہیں، جو خیال ہے کہ مینوفیکچرنگ خدمات کے لیے چینی ماہرین میں دلچسپی رکھنے والی مقامی کمپنیوں کو فروغ دے گی۔

انڈیا کے محکمہ برائے فروغ صنعت اور داخلی تجارت نے بدھ کی رات ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ ماہ کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ماہرین کو مدعو کرنے کے لیے سپانسر شپ لیٹر تیار کرنے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا گیا ہے۔

’ویزا فارم کو آسان بنایا گیا ہے اور اب متعلقہ وزارتوں سے اضافی سفارشات نہیں مانگی جائیں گی۔‘ 

بیان میں مزید کہا گیا کہ ویزوں میں دیگر کاموں کے علاوہ فیکٹری کی تنصیب، کمیشننگ، دیکھ بھال اور پیداوار کے لیے نرمی کی گئی ہے۔ 

انڈین کاروبار اس طرح کی خدمات اور مقامی عملے کو تربیت دینے کے لیے چینی ماہرین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، خاص طور پر وہ فیکٹریاں جہاں چینی مشینری نصب ہے۔

روئٹرز نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ انڈیا نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے اشارے میں چینی ماہرین کے ویزوں میں تیزی لانے کے لیے سرخ فیتے کی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں۔  

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرخ فیتے کو ہٹانے کا عمل اس وقت شروع ہوا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے سات سالوں میں پہلی بار اس سال چین کا دورہ کیا، چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی محصولات کے اثرات سے بچنے کے لیے مودی نے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بحال کیا ہے۔

تھینک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کا تخمینہ ہے کہ ویزوں پر سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے انڈین الیکٹرانکس بنانے والی کمپنیوں کو چار سالوں میں 15 ارب ڈالر کا پیداواری نقصان ہوا، جو چین سے کلیدی مشینری درآمد کرتے ہیں۔

بڑی چینی الیکٹرانکس کمپنیاں، جیسے شاؤمی نے بھی ویزا حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ 

کمپنی کے ایگزیکٹیوز نے کہا کہ اس طرح کی پابندیوں نے انڈیا میں توسیع کے ان کے منصوبوں کو متاثر کیا، جبکہ شمسی صنعت کو بھی ہنر مند مزدوروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں