اسلام آباد:
اقوام متحدہ کے اسپیشل رپوٹیورز اور خصوصی ماہرین نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف اور بیانیے کی بھرپور تصدیق کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’’ہیلڈ اِن ابینس‘‘ رکھنے کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ یا اس کی دھمکی پاکستان میں کروڑوں افراد کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے پانی، خوراک، روزگار، صحت، ماحول اور ترقی جیسے بنیادی حقوق براہِ راست زد میں آتے ہیں۔
خصوصی ماہرین نے زور دیا کہ سرحد پار حقِ آب میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے اجتناب لازم ہے اور پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، اور یہ معاہدہ اس وقت تک نافذ رہتا ہے جب تک دونوں حکومتیں باہمی رضامندی سے نئے معاہدے کے ذریعے اسے ختم نہ کریں۔

