کنگ کوبرا ٹرینوں سے انڈیا بھر میں پھیل رہے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کنگ کوبرا انڈیا کے مصروف ترین ریلوے نیٹ ورکس پر ’لفٹ‘ لے کر ملک کے مختلف حصوں میں پھیل رہے ہیں۔

مغربی گھاٹ کے کنگ کوبرا (Ophiophagus kaalinga)، جو انڈیا میں خطرے کے قریب یا معدومیت کے خدشے سے دوچار نسل سمجھی جاتی ہے، کو ٹرینوں کے ذریعے انڈیا کی مغربی سیاحتی ریاست گوا کے کئی علاقوں تک پھیلتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عام طور پر یہ کنگ کوبرا کی یہ نسل گوا کے اندرونی علاقوں، جنگلات، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب پائی جاتی ہے اور ریاست کے مشہور ساحلی اور سیاحتی علاقوں سے دور رہتی ہے۔

تاہم کئی دہائیوں پر مشتمل ریکارڈ کا جائزہ لینے والی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا کہ ریلوے سے منسلک بعض ایسے مقامات پر بھی کنگ کوبرا پائے گئے جو غیر متوقع تھے۔ یہ سانپ دنیا کے سب سے لمبے زہریلے سانپ سمجھے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ علاقے ان کے قدرتی مسکن کے مقابلے میں اس نسل کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کا ریلوے نظام، جو مسافروں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا مصروف ترین نظام ہے، کنگ کوبرا کی نقل مکانی میں کردار ادا کر رہا ہے اور انہیں ایسے مقامات تک پہنچا رہا ہے جو ان کے لیے مناسب مسکن نہیں۔

2002 سے 2024 تک کے سانپوں کے ریسکیو ڈیٹا اور مقامی طور پر تصدیق شدہ رپورٹس کے تجزیے میں محققین کو گوا میں اس نسل کے 47 مسکن ملے، جن میں سے 18 ریاست کے شمالی حصے اور 29 جنوبی حصے میں تھے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پانچ کنگ کوبرا کے ریکارڈ مصروف ریلوے راہداریوں کے قریب سے ملے۔

سائنسی جرنل Biotropica میں شائع ہونے والی تحقیق میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’یہ قابل ذکر ہے کہ مصروف ریلوے راہداریوں کے ساتھ واقع پانچ کنگ کوبرا کے ریکارڈ ہمارے ماڈل کے مطابق پیش گوئی کی گئی کم ترین امکان والی جگہوں پر موجود تھے۔‘

محققین نے لکھا: ’حالیہ برسوں میں کم قیمت سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کی عالمی سطح پر بڑھتی دستیابی کے باعث انڈیا میں ٹرینوں پر اور ان کے آس پاس سانپوں کی موجودگی کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں کے مطابق ان میں سے تین واقعات صرف 30 دن کے عرصے میں ریکارڈ کیے گئے جبکہ ’سوشل میڈیا پر اس سے بھی زیادہ واقعات سامنے آئے۔‘

انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’انڈیا میں ٹرینوں پر سانپوں کی نقل و حرکت کی حالیہ رپورٹس اور ایک ریلوے یارڈ میں اس نسل کے کنگ کوبرا کی موجودگی، جو رینگنے والے جانوروں کے لیے بالکل ناموزوں مسکن ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ سانپ، بشمول کنگ کوبرا، ممکنہ طور پر ٹرینوں کے ذریعے حادثاتی نقل و حمل کے باعث غیر ارادی طور پر اپنے مسکن کو وسیع کر رہے ہیں۔‘

محققین کا شبہ ہے کہ انڈیا کی مال بردار ٹرینوں میں چوہوں اور دیگر سانپوں کی شکل میں دستیاب خوراک، نیز ’پناہ گاہ اور اتفاقی مواقع‘، اس نقل مکانی کو بڑھا رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے لکھا: ’ہماری تحقیق ایک مختلف اور زیادہ غیر فعال طریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہے یعنی ریلوے لائنیں نہ صرف فعال نقل و حرکت کے لیے راہداری کا کام کر سکتی ہیں بلکہ تیز رفتار راستے بھی بن سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنیں انجانے میں ایسے علاقوں کو آپس میں ملا رہی ہیں جو عام طور پر جانوروں کے رہنے کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔ یہ انسان اور جنگلی جانوروں کے تعلق کا ایک نیا اور کم سمجھا گیا پہلو ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں