جنید ریا ض:محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبہ بھر میں ہزاروں سرپلس اساتذہ کے معاملے پر گھیرا تنگ کرتے ہوئے تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے تفصیلی رپورٹ اور باقاعدہ سرٹیفکیٹ طلب کرلیا ہے۔
محکمے کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہر ضلع فوری طور پر یہ ڈیٹا فراہم کرے کہ اس کے ماتحت سکولوں میں کتنے اساتذہ سرپلس ہیں اور سرپلس اساتذہ کی تعداد صفر فیصد ہونے پر سربراہان کو سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ سرپلس اساتذہ کا غلط یا گمراہ کن ڈیٹا فراہم کرنے والی اتھارٹیز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں سرپلس اساتذہ کے درست اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے، جس پر اعلیٰ حکام نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ جب تبادلوں کا مرحلہ کھولا جائے گا تو سرپلس اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر قریبی سکولوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ اساتذہ کی کمی والے اداروں میں تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق ضلعی اتھارٹیز تاحال سرپلس اساتذہ کے مؤثر تبادلوں میں بری طرح ناکام رہی ہیں، جس کے باعث کئی سکولوں میں اساتذہ کی کمی جبکہ بعض اداروں میں اضافی اسٹاف موجود ہے۔
محکمہ نے اس عدم توازن کو فوری طور پر ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

