ویانا (این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرہ ارض کو درپیش عالمی بحرانوں کواجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرحل شدہ سیاسی تنازعات صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کررہے ہیں، سفارتکاری، بات چیت اور مکالمہ تنازعات روکنے کا واحد ذریعہ ہے،پائیدار ترقی کو عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہئے اس کے بغیرعالمی امن ہمیشہ کیلئے خواب ہی رہے گا،اقوام متحدہ کو پہلے سے بہت زیادہ مضبوط، مناسب وسائل سے لیس اور اصلاح شدہ ادارہ بنایا جائے تاکہ یہ عالمی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر کام کرتا رہے۔ وہ منگل کویہاں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ”پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ“کے موضوع پر خصوصی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔وزیراعظم نے پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے مابین تعاون کے معاہدوں پردستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ان معاہدوں میں یو این آئی ڈی او پروگرام برائے کنٹری پارٹنرشپ پاکستان(2025 تا 2030)، یواین او ڈی سی کنٹری پروگرام پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکالوجی لاہور (انمول) اور آئی اے ای اے کے مابین تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔خصوصی تقریب میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے علاوہ ویانا میں موجود بین الاقوامی تنظیموں کے ڈائریکٹرجنرلز اورسفارتی مشنز کے مستقل نمائندوں نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے اقوا م متحدہ کے ویانا دفتر میں اس اجتماع سے خطاب اعزاز کی بات ہے، یہ شہر طویل عرصے سے سفارتکاری، کثیرالجہتی تعاون اور مکالمے کے ذریعے امن کی تلاش کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے لمحے میں جمع ہوئے ہیں جو عالمی تبدیلی اور گھمبیر نتائج کا حامل ہے، دنیا اس وقت چوراہے پر کھڑی ہے اور ہم الجھے ہوئے بحرانوں کا سامنا کررہے ہیں،ہمارے دور کا سب سے بڑا اندیشہ کوئی واحد خطرہ نہیں بلکہ جغرافیائی و سیاسی دشمنیاں،موسمیاتی بحران سمیت کئی خطرات کا مجموعہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بہت سے عوامل عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں،کرہ ارض کو بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے،بڑھتی ہوئی عالمی آبادی تیزی سے ہمارے سیارے کے محدود قدرتی وسائل کو ختم کررہی ہے،غیرحل شدہ سیاسی تنازعات اس صورتحال کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں اور اسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غربت، قرضوں کے جال، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ہجرت مزید بڑا خطرہ ہیں جو دنیا کو رہنے کیلئے مزیدخطرناک جگہ بنا رہے ہیں،پائیدار امن،جو ہمارے دور کے بحرانوں کا مقابلہ کرسکے،کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ پائیدار ترقی کا راستہ ہے، ایک ایسی پائیدار ترقی جس میں کوئی پیچھے نہ رہے،یہ انسانیت کیلئے وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کو ا س وقت تک پائیدار نہیں کہا جاسکتا جب تک یہ لاکھوں افراد کو بہتر زندگی کی ضمانت فراہم نہ کرے،اس لئے ہمیں ہر صورت ایسی پالیسیاں اپنانا ہوں گی جس میں سب کی شمولیت ہو، سماجی تحفظ فراہم ہواور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے،ہم صر ف اسی صورت معیار زندگی کو بلند کرسکتے ہیں، عدم مساوات کو کم کرسکتے ہیں اور ایسے معاشروں کی تعمیر کرسکتے ہیں جہاں خوشحالی سبھی کیلئے ہو اور انسانی وقار ملحوظ خاطر رہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی ایک عالمگیر ہدف ہے،ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کا بوجھ اور فوائد قوموں میں برابر تقسیم نہیں ہوئے،ترقی پذیر ممالک دنیا بھرمیں ماحول کے لئے مضر گیسوں کے اخراج میں سب سے کم حصہ ڈالتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں، قرضوں کی پریشانی اور معاشی اتار چڑھاؤ کی سب سے بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کی مثال دی جو موسمیاتی بحران کی شدید زد میں ہے اور اس میں پاکستان کی کوئی غلطی نہیں لیکن ہم موسمیاتی بحران کے مسلسل اثرات کا سامنا کررہے ہیں۔وزیراعظم نے دنیا کو پاکستان میں 2022کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلائی جس نے ہزاروں جانیں لیں، ہزاروں ایکڑپر کھڑی فصلیں بہادیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوکر زمین بوس ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بدقسمتی سے دوبارہ سیلاب آئے اور پہلے سے بھی زیادہ تباہی کی، یہ آفات گھروں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے کہیں بڑھ کر نقصان کا باعث ہیں اور انسانی سلامتی کو اس کی جڑ سے ہی کھوکھلا کردیتی ہیں اس لئے پائیدار ترقی کو انصاف، عدل اور منصفانہ طور طریقوں پر مبنی ہونا چاہئے، ان اصولوں کے بغیرعالمی امن ہمیشہ کیلئے خواب ہی رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ شدید چیلنجزکے باوجود، پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف سے پختہ طور پر وابستہ ہے، ہم نے پائیدار ترقی کے اہداف کو یہ تسلیم کرتے ہوئے اپنی قومی ترقیاتی منصوبہ بندی میں ضم کرلیا ہے کہ معاشی ترقی سب کیلئے ذمہ دارانہ طرز معاشرت کی حامل ہونی چاہئے،ہماری توجہ کا مرکز انسانی ترقی، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، غذائی تحفظ اور سماجی تحفظ ہے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کیلئے جو ہمارا سب سے بڑا اثاثہ اور مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک بڑا موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اداروں کو مضبوط کررہے ہیں، ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دے رہے ہیں،نیز علاقائی رابطوں کو وسعت دے رہے ہیں تاکہ مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جائے۔وزیراعظم نے یاد دلایا کہ پاکستان نے مسلسل مکالمے، سفارتکاری اور کثیرالجہتی تعاون کی وکالت کی ہیکیونکہ یہ تنازعات روکنے کا واحد قابل عمل ذریعہ ہے، پاکستان کو اکثر جارحیت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اہم معاہدوں کی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ابھی گزشتہ سال جنوبی ایشیا ایک بڑے جوہری تنازعے کی دہلیز پر تھا۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ہمسایہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا تھا جو پاکستان کے 24 کروڑ لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پائیدار ترقی کے اہداف کے پابند ہیں لیکن ہمیں ایک تلخ سچائی تسلیم کرنا ہوگی کہ عالمی امن اور تعاون کی بنیاد پر کھڑا کثیر الجہتی نظام یقیناً شدید دباؤ کا شکار ہے،اب اقوام متحدہ کو پہلے سے بہت زیادہ مضبوط، مناسب وسائل سے لیس اور جہاں ضروری ہواصلاح شدہ ہونا چاہئے تاکہ یہ ادارہ عالمی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر کام کرتا رہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ویانا اقوام متحدہ کے نظام میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،یہ عالمی گورننس کے اہم ستونوں کا گھر ہے جن میں دہشت گردی کے خلاف، انسداد منشیات، جرائم کی روک تھام، مجرمانہ انصاف کی اصلاحات جیسے اہم ستون شامل ہیں،نیز یہ صنعتی ترقی، جوہری ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور پرامن استعمال اورخلائی اداروں کا گھر ہے،اسی لئے پاکستان آئی اے ای اے، یو این آئی ڈی او، یو این او ڈی سی اور ویانا میں موجود دیگر اداروں کے ساتھ اپنے تعمیری تعلقات کی بہت قدر کرتا ہے۔نیز ہم مکمل طورپر ان اداروں کے اختیار کی حمایت کے پابند ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ صلاحیتوں کو نکھارنا، اشتراک علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اس بات کیلئے ناگزیر ہیں کہ جدت، امن وخوشحالی کا پل بنے نہ کہ نکال باہر کرنیاور عدم استحکام کا ذریعہ ثابت ہو،مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزکو ایسے طریقوں سے رائج کیاجانا چاہئیجو تمام انسانیت کیلئے فائدہ مند ہوں نہ کہ مراعات یافتہ چند طبقات کیلئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو جلد ہی یہ پائیدار ترقیاتی خلیج بن جائے گی اس لئے آئیں ہم دنیا کے زخموں کو فقط ڈھانپنے کی کوشش نہ کریں بلکہ انہیں مندمل کریں کیونکہ جب ہم اپنے دور کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل کے امن کو بڑے خطرے میں ڈالتے ہیں۔اس موقع پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانونے وزیراعظم کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری اہم شراکت داری ہے جسے ہم مزید بڑھا رہے ہیں،”ریس آف ہوپ“کے فلیگ شپ منصوبے کے حوالے سے تعاون کو مزید بڑھایا جارہا ہے،کینسر کے علاج کے شعبے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے، پاکستان کے ساتھ تعاون ماحولیاتی تحفظ کے دیگر شعبوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک وزراعت کے شعبے میں بھی تعاون کررہے ہیں، ہمارا تعاون آنے والے دور میں مزید مضبوط ہوگا۔ اس موقع پر یو این او ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹربرانڈولینو نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی موجودگی باعث اعزاز ہے، یہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کا ویانا انٹرنیشنل سینٹر کا پہلا دورہ ہے، پاکستان کی کثیرالجہتی نظام میں فعال شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان کے ساتھ ہماری 50 سال سے زیادہ عرصہ کی شراکت داری ہے، ہم نے مل کر انسداد منشیات، سرحدوں کی سلامتی اور دہشت گردی روکنے کے لئے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم منظم جرائم کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی تیارکرنے میں مدد کررہے ہیں تاکہ منشیات کی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ، سائبرکرائم، کرپشن اور مالی جرائم کے خلاف تعاون کو مضبوط بنایا جاسکے۔اس موقع پر یو این آئی ڈی او کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل یوکو یاسونگا نے کہا کہ جامع اور پائیدار صنعتی ترقی عالمی ترقیاتی ایجنڈے کی بنیاد رکھتی ہے، پاکستان عالمی اہمیت کا حامل ملک ہے جس کی پہچان ا س کا حجم، متحرک نوجوان ا?بادی اور تزویراتی محل وقوع کے ساتھ ساتھ درپیش موسمیاتی خطرات کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے،چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے ہنر مندی اور اختراع، صنعتی ترقی و کامیابی کی کلید ہیں، عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم سے کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی اثرات کے لحاظ سے انتہائی غیر محفوظ ہے،2022 کا تباہ کن سیلاب اس کی واضح مثال ہے، کاربن گیسوں کے کم اخراج کی ٹیکنالوجیز اور صنعتوں کی ترقی، معاش کے تحفظ، ترقی کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کیلئے ناگزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری شراکت داری نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے، پاکستان میں یو این آئی ڈی او کا پورٹ فولیو 60ملین سے بڑھا کر200ملین ڈالر کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

