اساتذہ کیلئے کلاس روم میں گاؤن لازمی قرار دینے کے بعد قیمتیں دوگنی ہو گئیں

جنید ریاض: پنجاب میں اساتذہ کیلئے کمرہ جماعت میں داخل ہونے سے پہلے گاؤن پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں گاؤن کی قیمتیں دوگنا ہو گئی ہیں جس کے باعث صوبہ بھر میں تقریباً 5 لاکھ اساتذہ متاثر ہو رہے ہیں۔

دکانداروں نے گاؤن کی قیمت میں اچانک اضافہ کر دیا ہے اور ایک ہزار روپے میں فروخت ہونے والا گاؤن اب 2 ہزار روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی کے باعث اساتذہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سرکاری سکولوں میں 3 لاکھ اساتذہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ پیف اور پیماء کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد 2 لاکھ ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں 5 لاکھ اساتذہ کیلئے گاؤن کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

صدر پنجاب ٹیچرز یونین کاشف شہزاد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کو سرکاری سطح پر گاؤن فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤن کی پابندی کو آئندہ تعلیمی سال تک موخر کیا جائے کیونکہ مارکیٹ میں عدم دستیابی کے باعث دکاندار من مانے پیسے وصول کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سکولوں میں اساتذہ کیلئے گاؤن پہن کر پڑھانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں