تحریر:سیدہ رباب بخاری
مظفرآباد میں منعقد ہونے والی ایک منفرد اور فکری نوعیت کی قومی کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ مسلم معاشرے کی فکری، اخلاقی اور نظریاتی تشکیل میں خواتین کا کردار محض ایک گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری امت کی فکری سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جموں و کشمیر جعفریہ سپریم کونسل کے وومن ونگ کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس کانفرنس نے نہ صرف عصرِ حاضر کے فتنوں اور چیلنجز پر روشنی ڈالی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اگر مسلم خواتین اپنی اصل دینی، اخلاقی اور فکری شناخت کے ساتھ میدانِ عمل میں آئیں تو معاشرے کی اصلاح، قومی یکجہتی اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا خواب حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
آج دنیا جس فکری انتشار، تہذیبی یلغار، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی بحران سے گزر رہی ہے، اس کے اثرات مسلم معاشروں پر بھی واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، مادہ پرستی اور بے راہ روی نے نئی نسل کے اذہان کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں خواتین کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں، کیونکہ ایک ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے نسلوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر خواتین اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کر لیں تو معاشرے کے اندر پھیلنے والی نفرت، فرقہ واریت، بے حیائی اور فکری انتشار کا سدباب ممکن ہو سکتا ہے۔
مظفرآباد کی اس کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی اور اتحادِ امت کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ موجودہ دور میں جہاں معمولی اختلافات کو بنیاد بنا کر نفرتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہاں ایسے اجتماعات معاشرے کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں۔ اس کانفرنس میں مقررین نے نہ صرف خواتین کے دینی و سماجی کردار پر گفتگو کی بلکہ امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی چیلنجز، فلسطین و کشمیر جیسے مظلوم خطوں کی صورتحال، اسلامی نظامِ حیات اور پاکستان کی سلامتی جیسے موضوعات پر بھی مدلل انداز میں اظہارِ خیال کیا۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جنہوں نے اپنی خواتین کو محض نمائشی آزادی کے بجائے فکری و تعلیمی شعور سے آراستہ کیا۔ اسلام نے خواتین کو عزت، وقار، تعلیم، تربیت اور معاشرتی کردار کا وہ مقام دیا جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی بصیرت، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی طہارت، حضرت زینبؓ کی جرات اور میدانِ کربلا میں ان کے استقامت بھرے کردار نے ثابت کیا کہ خواتین صرف خاندان ہی نہیں بلکہ پوری تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یا تو خواتین کو مکمل طور پر محدود کرنے کی سوچ پائی جاتی ہے یا پھر مغربی ماڈل کو ترقی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اسلام ایک متوازن راستہ پیش کرتا ہے جہاں عورت عزت و وقار کے ساتھ اپنی دینی، تعلیمی، سماجی اور قومی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کی تربیت صرف ڈگریوں تک محدود نہ ہو بلکہ انہیں فکری، نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں پر بھی مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔
کانفرنس میں پاکستان کی سلامتی، افواجِ پاکستان کے کردار اور دشمن قوتوں کی سازشوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ خواتین اب قومی سلامتی اور ریاستی استحکام جیسے معاملات پر بھی شعور رکھتی ہیں۔ آج پاکستان کو بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ اندرونی فکری انتشار کا بھی سامنا ہے۔ ایسے میں خواتین اگر گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی پلیٹ فارمز پر مثبت کردار ادا کریں تو قومی وحدت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
مسلم دنیا اس وقت جن مشکلات سے دوچار ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ فکری انتشار اور باہمی تقسیم ہے۔ فلسطین، کشمیر، شام اور دیگر خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پوری امت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کی ذمہ داری صرف جذباتی اظہار تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں فکری بیداری، تربیتِ نسل اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے عملی میدان میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
مظفرآباد میں ہونے والی یہ کانفرنس دراصل ایک پیغام ہے کہ اگر مسلم خواتین اپنی اصل شناخت، دینی شعور، اخلاقی اقدار اور قومی ذمہ داریوں کے ساتھ میدان میں آئیں تو نہ صرف معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ ایک نئی فکری بیداری کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فکری اجتماعات کو ایک مستقل تحریک کی شکل دی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو فکری انتشار کے بجائے ایک مضبوط اسلامی، اخلاقی اور قومی شعور فراہم کیا جا سکے۔

