آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘‘ کا رنگا رنگ افتتاح

کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘‘ کا رنگا رنگ افتتاح کردیا گیا۔ معروف مزاح نگار و دانشور انور مقصود نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ فیسٹیول کا افتتاح ’’المنائی آرٹ نمائش‘‘ کی ربن کاٹ کر کیا۔

نمائش میں آرٹس کونسل کے نائب صدر منور سعید، سیکریٹری اعجاز فاروقی، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، ناروے کی فنکارہ Karen Houge ،معروف مصور شاہد رسام، فائن آرٹ کمیٹی کے چیئرمین فرخ شہاب، فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، المنائی سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

احمد پرویز آرٹ گیلری میں منعقدہ ’’المنائی آرٹ نمائش‘‘ میں 19طلبا جواد احمد جان ، ریشماں خان، ردا علی شاہ، محمد جواد حسن، حبیبہ مجیب الرحمن، کرن اسلم، کبیر عطا محمد، یاسر نور، شہزاد بلوچ، آکاش جیوراج، اسٹفن یعقوب، زہرہ علی، طحہ عباس، ثانی زہرہ، فاہاشابی، بہزاد احمد وارثی، عاصم نقوی، زینت خان، زرناب بلوچ کے تخلیق کردہ 31منفرد اور دلکش فن پارے شائقینِ فن کی توجہ کا مرکز رہے۔

’’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘‘ میں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے دوسرے کانووکیشن کی تقریب کا انعقاد آڈیٹوریم I میں کیا گیا کانووکیشن میں عراق کے قونصل جنرلDr. Maher Mjhid Jejan، الائنس فرانسیز دی کراچی کے ڈائریکٹر Emmanuel Breurec، ڈائریکٹر جنرل گوئٹے انسٹیٹیوٹ پاکستان Andreas Schiekofer، سینئرصحافی غازی صلاح الدین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

جہاں مختلف شعبہ ہائے فن سے تعلق رکھنے والے 55 فارغ التحصیل طلبہ و طالبات، فنکاروں، اداکاروں، موسیقاروں اور نوجوان آرٹسٹوں کو اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا جس میں تھیٹر ڈیپارٹمنٹ کے 28، میوزک کے 17، فائن آرٹ کے 5، کمیونیکیشن ڈیزائن کے 3 جبکہ ٹیکسٹائل ڈیزائن کے 2 طلبا شامل تھے۔ تھیٹر ڈیپارٹمنٹ میں زوبی فاطمہ اور الائزہ کو گولڈ میڈل ،محمد حسن عالم اور مرحبا نورکو سلور میڈل ، میوزک ڈیپارٹمنٹ میں اظہر الشمس ،فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایس ایم طحہ عباس کو گولڈ میڈل ، میوزک ڈیپارٹمنٹ کی علیزہ فاطمہ اور محمد شاہ رخ جمیل کو سلور میڈل، فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ کی زہرہ علی کو سلور جبکہ فاہا شابی کو کانسی (Bronze)کے میڈل سے نوازا گیا۔کانووکیشن میں احسن باری نے اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے ڈیپارٹمنٹ کا مکمل تعارف پیش کیا۔

اس موقع پر مہمان خصوصی معروف مزاح نگار ودانشور انور مقصودنے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خوشی کا دن ہے، ہمارے ملک میں کل کا دن معرکۂ حق ہوگا، آپ کو آج آپ کا حق مل گیا ہے، میرے کام کی پہلی نمائش 1958 جبکہ صادقین کے فن پاروں کی پہلی نمائش 1957 میں ہوئی تھی۔ اس وقت میری تصویر کی قیمت 100 روپے اور صادقین کی 800 روپے تھی۔ آج میں نے آپ کی تصاویر کی قیمتیں دیکھی ہیں، میں حیران ہوں۔ آپ سب کی بنائی ہوئی تصویریں ہمارے گھر میں موجود ہیں، بہت اچھا کام ہو رہا ہے، یہ فیسٹیول واقعی خوشی کا دن ہے جس طرح آپ کام کر رہے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہے۔ احمد شاہ ایک اچھا سلسلہ چلا رہے ہیں۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی واحد ایسا ادارہ ہے جہاں روزانہ کوئی نہ کوئی تخلیقی سرگرمی جاری رہتی ہے۔کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’سامنے ناپا ہے لیکن آرٹس کونسل اور ناپا کے بیچ میں آنبائے ہرمز آ گئی ہے ‘‘۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے فیکلٹی ہیڈز پر فخر ہے، ہم نے میوزک اکیڈمی ایک فرد کے ساتھ شروع کی تھی، فائن آرٹس میں ہم نے ایسا بہترین ٹیلنٹ دیکھا ہے جو کہیں اور کم ہی نظر آتا ہے، محمود علی خان نے میوزک کا آغاز کیا، ہم مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے کو مزید مضبوط بنایا جائے، اس ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہمارے طلبہ ہیں، جو اس کی اصل انرجی ہیں، تین روزہ فیسٹیول میں یہ تمام المنائی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں گے، ہم آپ کو مواقع فراہم کریں گے تاکہ آپ اپنے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، ہم آپ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور آپ کی رہنمائی جاری رکھیں گے، ایسے حالات میں جب والدین چاہتے ہیں کہ بچے انجینئرنگ یا میڈیکل کے شعبے اختیار کریں، آپ نے آرٹ کو چُنا ہے، آپ واقعی بہادر ہیں جو آرٹ کو سیکھتے اور اپناتے ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ آپ کے لیے مارکیٹ میں جگہ بنائیں تاکہ آپ کی قدر و منزلت واضح ہو سکے۔ کانووکیشن 2026کی تقریب میں ایشا تمثیل کی شاندار کلاسیکل،کاظم اور حسن کی وائلن پر شاندار انسٹرومنٹل پرفارمنس نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ بلوچی گیت ’’یونس غلام رسول‘‘ کی خوبصورت پیشکش نے سماں باندھ دیا اور شرکاء سے بھرپور داد وصول کی۔نعمان الشیخ نے صوفی کلام ’’نعرہ مستانہ‘‘ پیش کرکے محفل پر وجدانی کیفیت طاری کر دی۔ جبکہ داستان گوئی کی دلکش اور روایتی پیشکش میں اویس اور عمران فرحان نے پطرس بخاری کا مشہور مضمون ’’کتے‘‘ اپنے شاندار اندازِ بیان اور بھرپور مکالماتی ادائیگی کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘‘ کے پہلے روز کا اختتام تھیٹر پلے’’ڈریم گرل‘‘ پر ہوا جس میں ناروے سے آئی معروف فلم ساز اور مزاحیہ فنکارہ Karen Houge نے اپنا تحریر کردہ دلچسپ، پُر لطف اور انٹرایکٹو سولو شو پیش کیا۔ ’’ ڈریم گرل‘‘ Karen Houge کی حقیقی زندگی کے تجربات پر مبنی تھیٹر تھا، منفرد تھیٹر شو کہانی سنانے، کھیل، کلاؤننگ، سامعین کے ساتھ براہِ راست تعامل اور تخلیقی استعمال کے ذریعے پیش کیا گیا ۔ Karen Houge کے منفرد انداز اداکاری کو شائقین کی جانب سے بہت حد سراہا گیا۔ تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ 10مئی تک آرٹس کونسل آف پاکستان میں جاری رہے گا جس میں تھیٹر، موسیقی، کلاسیکل و فوک ڈانس، لائیو پرفارمنس، آرٹ نمائش اور مکالماتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کا مقصد آرٹس کونسل کے مختلف اکیڈمیز اور شعبہ جات سے وابستہ سابق طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، ان کی فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نئے فنکاروں کو سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں