کوئٹہ سمیت دیگر پشتون اضلاع میں پاکستانی اور ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل قلت انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول صورتحال اختیار کر چکی ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ سمیت دیگر پشتون اضلاع میں پاکستانی اور ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل قلت انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ عوام روزانہ شدید اذیت، طویل قطاروں اور من مانی قیمتوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومت وضلعی متعلقہ انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ذخیرہ اندوز عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ خان، چمن، ہرنائی،زیارت، سبی، قلعہ سیف اللہ خان، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، میختر، لورالائی، بارکھان، برشور سمیت مختلف اضلاع وعلاقوں میں پٹرول نایاب ہوچکا ہے۔ پٹرول مافیا نے مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے اور عوام کو بلیک میل کرتے ہوئے منافع خوری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس غیر قانونی عمل کے نتیجے میں طلبہ و طالبات تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں، سرکاری و نجی ملازمین اپنی ڈیوٹیوں پر جانے سے قاصر ہو رہے ہیں جبکہ عام شہریوں کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔اور اب بھی پٹرول بلیک میں 500روپے سے تک فی لیٹر فروخت ہورہی ہے۔ ایرانی غیر قانونی پٹرول پمپس، دکانوں کے خلاف کارروائی کے بعدکمپنیوں کے بڑے پیٹرول پمپس بھی بند ہیں جس سے ذخیرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں