نئے منصوبے اور پالیسیاں بناتے وقت اپنے اسکالرز اینڈ ریسرچرز کے علم اور تجربے سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جن کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے،گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل

کوئٹہ(این این آئی)گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پل پل بدلتی دنیا بڑی تیزی سے کروٹیں بدل رہی ہے جس کا مشاہدہ ہم پہلی بار کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن اور سیاسی اقتصادی حرکیات میں تبدیلیاں بیک وقت سنہرے مواقع اور خطرات دونوں پیش کرتی ہیں، اسلیے ہمیں انکے نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک جامع قومی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی متحرک فکری اور علمی طاقت کو بروئے کار لانا ہوگا۔ نئے منصوبے اور پالیسیاں بناتے وقت ان کے علم اور تجربے سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جن کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ درجے کے سائنسدان اور ماہرین معاشیات موجود ہیں۔ انکے متنوع نقطہ نظر کو یکجا کرکے ہم ایسے بہت سے نئے منصوبے بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرز اینڈ ریسرچرز زندگی کے تمام شعبوں میں علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔ یہ اسکالرز سائنسی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایسے تجربہ کار افراد ہمارے قیمتی وقت، توانائی اور وسائل کے مزید ضیاع سے بچنے کیلئے ہمیں مدد اور رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہماری طاقت اتحاد، عقل و عمل کے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم اپنی یونیورسٹیوں میں موجود اسکالرز اور محققین کی حکمت پر دھیان دیں تو ہم ایک ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کے خواب کی تعبیر کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں