کوئٹہ(این این آئی) آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدرمیر عبدالسلام لانگو اور چیئرمین ملک عبدالغفار مندخیل نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے آئندہ مالی سال2026-27ء کے بجٹ میں صوبے میں جاری اسکیمات کیلئے انتہائی کم رقم مختص کی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آئندہ مالی سال کے بجٹ کومسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ بجٹ میں آن گوئنگ اسکیمات کیلئے 100فیصد رقم مختص کرے بصورت دیگر عدالت سے رجوع سمیت احتجاج پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔ یہ بات نہوں نے جنرل سیکرٹری ملک مجیب مہترزئی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری صلاح الدین کبزئی،آل بلوچستان رابطہ سیکرٹری سمیع اللہ کاکر،نائب صدر میرعدنان لہڑی، میرابرار رئیسانی، صاحبزادہ بسم اللہ،ادریس لانگو،بلال کبزئی اوردیگرکے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔میرعبدالسلام لانگو نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹھیکیدار برداری کو کسی قسم کا کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا ہے آئندہ مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص رقم انتہائی ناکافی ہے موجودہ حالات میں مختص کی گئی رقم سے نہ صرف منصوبوں کی بروقت تکمیل مشکل ہے بلکہ کئی منصوبوں پر عملی طور پر کام جاری رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روز بروزامن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے مہنگائی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ٹھیکیداروں کی مشینری جلانے سے پہنچنے والے نقصانات نے تعمیراتی شعبے کو شدید بحران سے دوچار کردیا ہے جس سے ٹھیکیدار برداری کومالی خسارے کا سامنا ہے ایسی صورتحال میں جاری منصوبوں کیلئے 100فیصد فنڈز فراہم نہ کئے گئے اورصرف جزوی یا ناکافی رقم فراہم کی گئی تو بیشتر ترقیاتی منصوبے تعطل کا سکار ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبے میں جاری800سے زائد اسکیمات کیلئے 100فیصد فنڈز جاری کئے جائیں تاکہ ٹھیکیدار برداری بروقت اپنے منصوبے مکمل کرسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ ٹھیکیداربرادری کے جو طے شدہ معاہدے ہیں ان میں سے بیشتر منصوبے چھوٹے اور درمیانی نوعیت کے ہیں جن کی تکمیل 12سے 24ماہ تک مقرر کی گئی ہے اگر ان منصوبوں کیلئے مکمل فنڈز فراہم نہ کئے گئے تو یہ منصوبے تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ مہنگائی کی لہر،پٹرول،ڈیزل اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ٹھیکیداروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حکومت فوری طورپر ٹھیکیداروں کو نئے ریٹس فراہم کرے تاکہ وہ نقصانات سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بیکٹر کیلئے 100فیصد فنڈز فراہم کرنے کا خیر مقد م کرتے ہیں وزیراعلیٰ صرف ایک حلقے کے نہیں بلکہ پورے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں انہیں چاہئے کہ وہ تمام اضلاع کیلئے یکساں بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ایک سوال کے جواب میں ملک عبدالغفار مندوخیل نے کہا کہ اسوقت صوبے میں 800سے زائد جاری اسکیمات ہیں جنہیں پہلے مکمل کیا جائے جس کے بعد دوسری اسکیمات پر کام شروع کیا جائے گا۔

