ہرمز بحران سے متعلق وائرل دعووں کی حقیقت سامنے آگئی

سو سے زائد امریکی طیارے بحری جہازوں کو ہرمز سے گزارنے کے لیے روانہ ہوئے، تو سعودی عرب نے انہیں اپنے اڈوں اور فضائی حدود تک رسائی دینے سے صاف انکار کر دیا اور ٹرمپ کا مشن ادھورا رہ گیا۔ یو ں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں اس صدی کی سب سے بڑی دراڑ پڑنے کا آغاز ہوا۔ یہ مشن تھا آبنائے ہرمز کھلوانے کےلیے۔ اور اب اس کی تفصیلات وال سٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ جیسے بین الاقوامی میڈیا ادارے سامنے لے کر آئے ہیں کہ کس طر ح عین حالتِ جنگ میں امریکہ اور سعودیہ آپس میں بھی لڑ پڑے تھے۔
جب ٹرمپ نے آبنائے
ہرمز کھولنے کے لیے “پراجیکٹ فریڈم” کا اعلان کیا، تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس آپریشن کی وجہ سے سعودی امریکہ تعلقات کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔ سعودی عرب نے امریکہ کو اپنے اڈوں اور فضائی حدود تک رسائی دینے سے اس وقت انکار کر دیا جب امریکی طیارے مختلف اڈوں سے فضا میں بلند ہو چکے تھے۔ یوں مشن ناکام ہو گیا اور وائٹ ہاؤس نے شدید غصے میں دھمکی دی کہ اگر سعودی عرب نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے والے انٹرسیپٹرز کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔پھر سعودیہ بس منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ بعد میں سعودی تعاون پہ معاملات کچھ بہتر ہوئے۔ مگر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہونے والا نقصان اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگا۔ یہ برسوں میں تعلقات کی سب سے بڑی دراڑ ہے۔ کیوں کہ امریکی صدر نے ساری دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ میں آبنائے ہرمز کھلوا رہا ہوں اور پھر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنا دعوی واپس لے لیا۔ اس سے نہ صرف پوری دنیا میں امریکہ کی جگ ہنسائی ہوئی، بلکہ یہ سوالات بھی اٹھے کہ کیا ایران اتنا طاقتور ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر صدرِ امریکہ اپنا فیصلہ واپس لے لے۔
سعودیہ کا موقف اس سارے معاملے میں یہ تھا کہ دنیا پہلے ہی تیل کے ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہی ہے۔ لہذا سعودی حکومت نے امریکہ کو وارننگ دی کہ ایران پر حملہ آبنائے بند کر دے گا اور تیل کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔تیل کی قیمتیں اس وقت ویسے آسمان کو چھو رہی تھیں۔ اگر آبنائے ہرمز پہ حملہ ہوتا اور تو ایران ہر اس ملک کو نشانہ بناتا جس کی ایئر امریکہ نے استعمال کی تھی۔ ایران تیل کے کنوؤں اور ریفائنریز کو نشانہ بناتا۔ اس سے جو ڈیمج ہوتا اسے ریکور کرنے میں سالوں کا عرصہ درکار ہوتا۔ اور دنیا توانائی کے بحران کے ایسے دور میں داخل ہو جاتی جو دنیاکے ہر ملک کی معشیت تباہ کر دیتا۔ سعودیہ کو پتہ تھا کہ امریکہ کا اس حملے میں کچھ بھی نہیں جائے گا جبکہ میرا کچھ باقی نہیں رہے گا۔
خیر جنگ میں یہ ایک معاملہ پسِ پردہ ایک بڑے تنازعہ کی صورت اختیار کر گیا۔امریکی دھمکی کی وجہ سے تلخی بڑھی اور سعودی عرب کے سوچنے کا انداز تبدیل ہو گیا( سعودیہ کی آئندہ حکمتِ عملی کیا ہو گی اس پہ ایک الگ آرٹیکل آئے گا) ۔ بعد میں یہ حالات بن گئےکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گروپ آف سیون کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے اپنے خلیجی دورے میں جان بوجھ کر سعودی عرب کو نظرانداز کیا۔ سعودی عرب نے اسے واضح طور پر امریکی رویہ میں تبدیلی قرار دیا ۔ دوسری جانب امریکہ اب سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے، اور اس کا جھکاؤ اسرائیل اور اردن کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکہ اور سعودیہ کا اتحاد اسی سال پرانا ہے۔ بین الاقوامی سکیورٹی کے ماہرین یہ مانتے ہیں کہ یہ اتحا ہی ہے جس کی وجہ سے خلیج کی سلامتی برقرار رہی۔ تو کیا یہ اتحاد آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے سوال پہ ٹوٹنے جا رہا ہے؟ اور کیا امریکہ سعودی اتحاد ٹوٹنے پر سعودی عرب اور ایران آپس میں نزدیک آ جائیں گے؟ آپ کی سوچ اس سوال کا کیا جواب دیتی ہے کہ سعودی اور امریکہ اب بھی مل کر رہیں گے؟ یا ایران اور سعودی عرب میں دوستی ہو جائے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں