بلوچ عوام کی مایوسی میں اضافہ ھورہا ہے۔ میر رحیم جتک

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور معروف قبائلی شخصیت میر عبد الرحیم جتک نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا پائیدار حل صرف اور صرف سیاسی مذاکرات، باہمی اعتماد اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لینے سے ہی ممکن ہے۔
غیر سنجیدہ اور وقتی اقدامات سے نہ صرف مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ بلوچ عوام میں احساسِ محرومی اور مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔کوئٹہ میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وفاق اور متعلقہ ادارے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مکالمہ ہی دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ میر عبد الرحیم جتک نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل بلوچ عوام کے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق کی آواز بلند کر رہے ہیں، مگر انہیں اس جدوجہد کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور سیاسی مسائل کو سیاسی انداز میں حل کیا جاتا ہے، لہٰذا سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کی روش کسی بھی صورت مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، سیاسی کارکنوں اور قیادت کے تحفظات دور کیے جائیں، آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بامقصد مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ صوبے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ہر سطح پر جمہوری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں