حب/دریجی( ) ضلع حب کی سیاست میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والی تبدیلیوں نے دریجی کو ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ میر علی حسن زہری کی جانب سے حب میں متعدد عوامی مفادات اورجاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور جاری حب ماسٹر پلان کے منصوبوں پر عملدرآمدمیں تیزی کے ساتھ ساتھ دریجی میں سیاسی سرگرمیوں اور عوامی رابطوں میں تیزی کے بعد سردار اختر مینگل کی سیاسی فعالیت، مختلف سیاسی و قبائلی شخصیات کی متحرک موجودگی اور دریجی میں آزادی پسند گروہوں یا ان سے منسلک عناصر کی مبینہ سرگرمیوں کی اطلاعات نے سیاسی حلقوں میں کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ضلع حب کی موجودہ سیاسی صورتحال کو محض میر علی حسن زہری اور بھوتانی برادران کے درمیان روایتی سیاسی مقابلے تک محدود کرکے دیکھنا شاید کافی نہ ہو۔ موجودہ حالات میں بلوچستان کی وسیع تر سیاست، قبائلی اثرورسوخ، مقامی سیاسی مراکز اور مختلف قوتوں کے درمیان ممکنہ صف بندی بھی اہمیت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دریجی اس بدلتے سیاسی منظرنامے میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ میر علی حسن زہری نے حالیہ عرصے کے دوران ضلع حب، بالخصوص دریجی میں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ سیاسی اجتماعات، شمولیتی پروگراموں اور مقامی آبادی سے رابطوں کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ستمبر 2026 میں دریجی کے علاقے بہلور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ایک شمولیتی جلسہ بھی منعقد ہوا، جس میں مقامی سیاسی و سماجی شخصیات اور کارکنوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر میر علی حسن زہری نے دریجی میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب میر علی حسن زہری ضلع حب کی سیاست میں اپنی موجودگی اور سیاسی اثرورسوخ کو وسعت دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سردار اختر مینگل کی حالیہ سیاسی سرگرمیاں بھی بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں نمایاں رہی ہیں۔ رواں سال ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور بلوچستان کی سیاسی و علاقائی صورتحال پر مشاورت رپورٹ ہوتی رہی ہے۔ سیاسی حلقوں کے بعض مبصرین سردار اختر مینگل کی بڑھتی ہوئی سیاسی فعالیت کو ضلع حب، خصوصاً دریجی میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ان سرگرمیوں کو کسی مخصوص سیاسی منصوبے یا خفیہ حکمت عملی سے جوڑنے کے لیے فی الحال مزید قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔ دریجی اور ضلع حب کی بدلتی ہوئی صورتحال میں جام جوکھیو، ملک برفت سمیت دیگر سیاسی و قبائلی شخصیات کی سرگرمیاں بھی سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا مختلف سیاسی و قبائلی شخصیات کی حالیہ سرگرمیاں انفرادی سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہیں یا ضلع حب میں کسی نئی سیاسی صف بندی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی اور قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم مختلف سیاسی سرگرمیوں کا ایک ہی عرصے میں نمایاں ہونا دریجی کی سیاسی اہمیت کو ضرور بڑھا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کا سب سے حساس پہلو دریجی میں آزادی پسند گروہوں یا ان سے منسلک عناصر کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات ہیں۔ اگر ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہو جاتی ہے تو معاملہ محض سیاسی اثرورسوخ کی کشمکش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امن و امان، مقامی آبادی کے تحفظ اور ریاستی رٹ سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ دریجی میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور مبینہ آزادی پسند عناصر کی سرگرمیوں کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا دونوں پیش رفتیں محض ایک ہی وقت میں سامنے آئی ہیں۔ اس سوال کا حتمی جواب قابلِ اعتماد شواہد اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بغیر دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم سیاسی اور علاقائی صورتحال کی حساسیت کے باعث اس پہلو کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میر علی حسن زہری کی بڑھتی ہوئی سیاسی موجودگی، مختلف سیاسی و قبائلی حلقوں کی سرگرمیاں، سردار اختر مینگل کی سیاسی فعالیت اور دریجی میں مبینہ آزادی پسند سرگرمیوں کی اطلاعات نے اس علاقے کو ضلع حب کی موجودہ سیاست کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سیاسی جماعتیں، مقامی قیادت اور متعلقہ ادارے دریجی میں ہونے والی سیاسی اور سماجی پیش رفت پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی سے متعلق مصدقہ معلومات عوام کے سامنے لائیں۔ کیونکہ اگر دریجی میں جاری سیاسی مقابلہ محض مقامی اثرورسوخ کی کشمکش تک محدود نہیں اور اس کے ساتھ دیگر حساس عوامل بھی جڑ رہے ہیں تو اس کے اثرات مستقبل میں ضلع حب کی سیاست سے آگے بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دریجی اب صرف ایک مقامی سیاسی مرکز نہیں رہا، بلکہ ضلع حب میں بدلتے سیاسی توازن، قبائلی اثرورسوخ اور امن و امان سے متعلق کئی اہم سوالات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

