ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے صوبے بھر کے ٹھیکیداروں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی، ملک عبدالغفار مندوخیل /صدر عبدالسلام لانگو ودیگر

کوئٹہ: بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی اور ضلعی عہدیدارووں نے کہا ہے کہ ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے صوبے بھر کے ٹھیکیداروں کو بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی ،صوبائی حکومت صوبے میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل کیلئے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے ،بی ر اے کنٹریکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس سے متعلق غیر ضروری نوٹسز بھیجنے کا سلسلہ بند کرے بصورت دیگرایسوسی ایشن احتجاج کاحق محفوظ رکھتی ہے ،بلوچستان بھر میں ایسوسی ایشن کو فعال اور منظم کیا جائےگا تاکہ ٹھیکیدار برادری کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔یہ بات بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک عبدالغفار مندوخیل ، صوبائی صدر عبدالسلام لانگو ،جنرل سیکرٹری ملک مجیب مہترزئی ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری صلاح الدین کبزئی،پشین کے صدر عیسیٰ روشان،ضلعی صدر قلعہ سیف اللہ حاجی دارا خان جوگیزئی، صاحبزادہ بسم اللہ خان موسیٰ خیل کے سردار خیبر افغان ، ، جعفرباد کے صدر میرمحمد کریم لہڑی،بارکھان کے صدر عزیز خان کھیتران ، قلعہ سیف اللہ کے صدر حاجی عبدالمالک ،پشین کے چیئرمین اللہ نور ، نوشکی کے صدر میر منظور مینگل اور دیگر نے منگل کو مقامی ہال میں بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرایسوسی ایشن بلوچستان کے 35اضلاع کے صدوراور جنرل سیکرٹریز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں ٹھیکیدار برادری اسوقت گونا گوں مسائل سے دوچار ہیںایم پی ایز ،ڈپٹی کمشنر اوردیگر متعلقہ حکام کی جانب سے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے سے ٹھیکیداروں کو میں تشویش پائی جاتی ہے ہم اس پلیٹ فارم سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ٹینڈرز سے ارکان صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی کمشنرز کا کوئی تعلق نہیں ہے متعلقہ محکمے صاف اور شفاف طریقے سے ٹھیکیداروں کوکام کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ، چیف سیکرٹری ، اورایڈیشنل چیف سیکرٹری(ترقیات)صوبے میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل کیلئے خاطرخواہ فنڈزمختص کریں باالخصوص وہ اسکیمیں جو دو یا تین کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوسکتی ہیں انہیں فوری طور پر مکمل فنڈز جاری کرکے پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے اور بعداز تکمیل انہیں پی ایس ڈی پی سے خارج کیا جائے، انہوں نے کہا کہ بی ر اے کی جانب سے کنٹریکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس سے متعلق غیر ضروری نوٹسز بھیجے جارہے ہیں یہ سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت بلوچستان کے Exempt areasکو انکم ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دے کیونکہ صوبے کے حالات پہلے ہی انتہائی مخدش ہیں اور مزید ٹیکس کا بوجھ کنٹریکٹرز اورعوام کیلئے مشکلات میں اضافے کریگا۔انہوں نے کا کہ بی پیپرا فنانشنل اور ٹیکنیکل بیڈز ایک ہی وقت میں کھلے بعد ازاں صرف ان فرموں کو خارج کیا جائے جو ٹیکنیکل معیار پر پوری نہ اتریں جبکہ باقی اہل کمپنیوں کو کم ترین ریٹ کی بنیاد پرکام الاٹ کیا جائے تاکہہ شفافیت ،مسابقت اوربروقت منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے اور جو کالی بھیڑیں اکثر مقابلے کے ریٹس تبدیل کرتی ہیں انکا خاتمہ ہو ۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے ترقیاتی کاموں میں دو لفافوں کا طریقہ ختم کرکے براہ راست مالی بولیاں کھولی جائیں اگر کوئی فرم تخمینہ لاگت سے 10فیصد سے زیادہ کم ریٹ دے تو اس سے بینک گارنٹی حاصل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پی سی ون میں ایک فیصد رقم کنٹریکٹرز ویلفیئر فنڈکیلئے مختص کرے تاکہ کسی کنٹریکٹر،مشینری یا منصوبے کی سائیٹ پر کوئی حادثہ پیش ئے تواسی فنڈ سے نقصان کا ازالہ کیا جائے،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز،بورڈ ف ریونیو ،BSDIکے متعلقہ حکام جس طرح منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں اسی طرح ٹینڈرز کی شرائط کا بھی جائزہ لیں اور غیر ضروی شرائط ختم کی جائیں تاکہ ہر چھوٹی اور بڑی فرم کو میرٹ کی بنیاد پر کام کرنے کا موقع مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکارفنڈز بروقت اور مکمل طور پر جاری کئے جائیں تاکہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور فنانس کے مراحل میں کنٹریکٹرز کو غیرضروری تاخیر یا رشوت ستانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ،بی پیپرا کے بورڈ Èف ڈائریکٹرز میں کنٹریکٹرز کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے تاکہ قواعد و ضوابط میں ترمیم کے وقت وہ قانونی اور عملی مشاورت فراہم کرسکے۔انہوں نے کہا کہ اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک ڈائریکٹر کی جانب سے طویل عرصے سے ٹینڈرنگ اور منصوبہ بندی کے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے نہ کوئی باقاعدہ ٹینڈرمیرٹ پر نہ شفافیت کےساتھ فیصلے کئے جارہے ہیں من پسند فرموں کو راتوں رات منظور کرکے ف ریٹ پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے جبکہ متعدد کنٹریکٹرز کو بلاجواز ڈس کوالیفائیڈ کیا جاتا ہے جی رسی کا موثر نظام مکمل طور پرغیر فعال ہے ٹیکنیکل انجینئرز کی شدید کمی کے باوجود تمام ٹیکنیکل اور ٹینڈرنگ کا عمل ایک پرائیویٹ شخص کے ذریعے چلایا جاتا ہے اکثر کنٹریکٹرز کے پروجیکتس غیر شفاف طریقے سے نکال کر ڈائریکٹر اپنے پ کو بااختیار ظاہر کرتا ہے اس صورتحال میںوزیراعلیٰ ،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سے اپیل کرتے ہیں کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اربن پلاننگ کی بجائے متعلقہ ٹیکنیکل اداروں بی اینڈ ر ، ایری گیشن اور لوکل گورنمنٹ کے سپرد کئے جائیں کیونکہ اربن پلاننگ کا دائہ کار صرف شہری منصوبہ بندی تک محدود ہونا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں