صومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان، مشرق وسطیٰ اور کشمیر کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کردیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے بدخشاں اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں افغان طالبان فورسز اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات دیکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکا انسدادِ دہشت گردی مذاکرات ایک باقاعدہ عمل ہیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس تعاون موجود ہے اور اس تعاون کی موجودہ سطح اطمینان بخش ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گرد گروہ پورے خطے میں موجود ہیں اور ان دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو بھی بھارت مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات قومی برآمدات کا حصہ ہیں اور اگر کوئی نجی وینڈر دفاعی مصنوعات تیار کر کے برآمد کرتا ہے تو اس سے ٹیکس اور دیگر مدات میں قومی خزانے کو بھی آمدن حاصل ہوتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ پاکستان خلیج میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر پاکستان ثالثی کی کوششوں میں زیادہ متحرک ہے اور پاکستان کے توسط سے کسی بھی معاہدے کی اہمیت مسلم ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد بندش سمیت دیگر معاملات خود حل ہو جائیں گے ۔ اس پیش رفت میں عمان کے کردار کو پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے معاملات میں سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور عمان اس تمام صورتحال میں مثبت کردار نبھا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف آج سے 8 اگست تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی اب تک ممکن نہیں ہو سکی، جس پر پاکستان نہایت افسردہ ہے۔ یہ معاملہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ میں امن دستے بھیجنے سے متعلق سوال کا جواب دینا قبل از وقت ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بنگلا دیش کے ساتھ سفارتی روابط معمول کے سفارتی ذرائع سے جاری ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے اندرونی معاملات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بیان کو مسترد کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سخت قوانین کے سائے میں بھارتی فوج کی بھاری موجودگی برقرار ہے، جہاں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ استصوابِ رائے کو ختم نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں