محمودخان اچکزئی کے زیر صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد/کوئٹہ(این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پشتونخو امیپ کے چیئرمین محمودخان اچکزئی کے زیر صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں علامہ ناصر عباس جعفری، سلمان اکرم راجہ، سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف، اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری نے شرکت کی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی غور و خوض اور مُلک میں جاری سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کے بحرانوں اور اُن پر حکومتی عدم توجہ پر فکر مندی کا اظہار کیا گیا۔ اِجلاس میں قائدِ حزب اختلاف محمود اچکزئی نے شرکاء کی توجہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کے حوالے سے حکومتی بے اعتنائی اور آئینی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی جانب دلائی اور آگاہ کیا کہ بطور قائد حزب اختلاف اُنھوں نے نئے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کے آئینی ضابطہ کار پر عمل درآمد اور آئینی پراسیس کے آغاز کے لیے وزیراعظم پاکستان کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔ اجلاس میں اِس اَمر پر حیرانگی اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران اپنی آئینی مُدت کے خاتمہ کے بعد بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے اَب تک نئے ممبران کی تقرری کا آئینی پراسیس نہیں شروع کیا گیا۔ اجلاس نے یہ قرار دیا کہ تمام برائیوں اور بحرانوں کی جَڑ متنازع اور غیر شفاف انتخابات ہیں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سمجھتی ہے کہ صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے لیے غیر جانب دار اور خودمختار الیکشن کمیشن کا قیام ناگزیر ہے۔ لہٰذا وزیراعظم اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کر کے فی الفور اِس اہم آئینی پراسیس کا آغاز کریں۔تحریک تحفظ آئین پاکستان سابق وزیراعظم اور قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ عمران خان محض ایک قیدی نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے قائد اور راہبر ہیں اور اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے ان کے خاندان کو ملاقات کی اجازت نہ دینا اور ذاتی معالجین تک رسائی سے محروم رکھنا انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت امر ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان خبردار کرتی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور سلامتی کی مکمل ذمہ داری ان اداروں پر عائد ہوتی ہے جن کی تحویل میں وہ ہیں۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کی ہمشیرگان فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے ذاتی معالجین کو بھی ان تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں حقائق سامنے آ سکیں اور انھیں فی الفور الشفاء ہسپتال میں ان کے ذاتی معالجین و فیملی کی نگرانی میں مکمل چیک اپ کیا جائے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان عمران خان کی صحت اور رہائی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس اہم قومی و سیاسی مسئلے پر مشترکہ جدوجہد زیادہ مؤثر، نتیجہ خیز اور کارگر ثابت ہوگی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اِس مشترکہ جدوجہد اور مستقبل میں تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کئیے گئے لانگ مارچ کے حوالہ سے بہتر رابطہ کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔ اتحاد توقع رکھتا ہے کہ تحریک انصاف باقاعدگی سے تحریک تحفظِ آئین کی قیادت کو اس حوالہ سے آگاہ رکھے گی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان آزاد کشمیر میں جاری انسانی بحران کے شکار محصور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے اور ان کی مدد کی کوشش کرنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان، ان کے ساتھیوں اور کشمیری مظاہرین کی غیر قانونی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان، ان کے ساتھیوں اور تمام گرفتار کشمیری مظاہرین کو فی الفور رہا کیا جائے اور آزاد کشمیر میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں