کیا ایٹمی دھماکا زمین کو شہابِ ثاقب سے بچانے کےلیے کارگر ہوسکتا ہے؟

زمین کی جانب بڑھنے والے کسی بڑے شہابِ ثاقب کو روکنے کے لیے سائنس دانوں نے ایٹمی دھماکے کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لیا ہے۔ نئی کمپیوٹر سمولیشنز میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اگر کوئی تقریباً 160 میٹر چوڑا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو کیا ایٹمی دھماکا اسے تباہ یا اس کا راستہ تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فٹ بال کے میدان کے برابر حجم رکھنے والا شہابِ ثاقب کسی بڑے شہر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دان آئزیا سینٹی سٹیون اور ان کی ٹیم نے سپر کمپیوٹرز کے ذریعے ایک 160 میٹر چوڑی چٹان پر ایک میگا ٹن کے ایٹمی دھماکے کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ بم کا براہِ راست شہابِ ثاقب سے ٹکرانا ضروری نہیں، بلکہ چٹان کی سطح سے چند میٹر دور کیا جانے والا دھماکا بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ایٹمی دھماکے سے خارج ہونے والی تقریباً 80 سے 70 فیصد توانائی ایکس رے شعاعوں کی شکل میں نکلتی ہے۔ یہ انتہائی گرم شعاعیں شہابِ ثاقب کی سطح کو شدید گرم کرکے اس کے کچھ حصے کو بھاپ میں تبدیل کردیتی ہیں۔ اس مادے کے تیزی سے باہر نکلنے سے چٹان کی رفتار اور سمت متاثر ہوتی ہے، جبکہ اندر پیدا ہونے والا شدید دھچکا اسے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتا ہے۔

اس عمل کی مزید تفہیم کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے کمپیوٹر پر تین مختلف ماڈلز تیار کیے۔ شہابِ ثاقب کی ساخت اور شکل کے لیے ناسا کے حالیہ مشن سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا گیا، جبکہ دو حقیقی شہابِ ثاقب کے ٹکڑوں سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ماڈلز میں شامل کی گئیں۔

پہلی سمولیشن میں دھماکا چٹان سے 10 میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔ نتائج کے مطابق شہابِ ثاقب کا تقریباً 98 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا اور اس کا بیشتر مادہ الگ ہوکر مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔ دوسرے تجربے میں دھماکے کا فاصلہ بڑھا کر 25 میٹر کردیا گیا۔ حیران کن طور پر زیادہ فاصلے کے باوجود ایکس رے شعاعیں نسبتاً وسیع علاقے تک پہنچیں اور ابتدائی مرحلے میں چٹان کو زیادہ نقصان پہنچا۔

تاہم تحقیق کے نتائج کو حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سائنس دانوں کے مطابق سمولیشن اس قدر پیچیدہ تھی کہ صرف ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کا جائزہ لینے کے لیے 1680 کمپیوٹر پروسیسرز کو مسلسل 59 دن تک چلانا پڑا۔ اسی وجہ سے محققین ابھی یہ تعین نہیں کرسکے کہ شہابِ ثاقب کے ٹوٹنے کے بعد بننے والے ٹکڑوں کا طویل مدت میں کیا انجام ہوگا۔

ممکن ہے کہ یہ ٹکڑے خلا میں مختلف سمتوں میں بکھر کر زمین کے لیے بے ضرر ہوجائیں، تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ کششِ ثقل انہیں دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لے آئے یا ان میں سے کوئی بڑا ٹکڑا زمین کی سمت بڑھ جائے۔

یہ تحقیق سیاروی دفاع کے لیے جاری سائنسی کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین ایسے مختلف طریقوں پر پہلے ہی کام کررہے ہیں جن کے ذریعے کسی ممکنہ خطرناک سیارچے کو زمین تک پہنچنے سے پہلے اس کے راستے سے ہٹایا جاسکے۔ تاہم ایٹمی دھماکے کو معمول کے دفاعی طریقے کے بجائے صرف انتہائی ہنگامی اور آخری آپشن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اب بھی سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرانے کی سمت میں بڑھ رہا ہو تو اسے روکنے کے لیے انسانیت کے پاس کتنا وقت ہوگا۔ نئی تحقیق کم از کم یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ ایسی انتہائی سنگین صورتحال میں ایٹمی دھماکے سمیت کون سے ممکنہ دفاعی راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں