کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کی جانب سے یہ کہنا کہ پنجاب کو ہندوستان جیسے ملک سے خطرہ نہیں بلکہ خطرہ پشتونخوا اور بلوچستان سے ہے انتہائی تعجب خیز ماضی سے ناواقفیت تشویشناک اور قابل مذمت بیان ہے ایسے بیانات پشتونوں اور بلوچوں میں پائی جانیوالی احساس محرومی کو مزید بڑھا وا دیگی دہشت گردی اور بدامنی کا شکار پشتون اور بلوچ اقوام ہے ان دیرینہ اور حل طب مسائل کیحل کی بجائے الزام تراشی غیر سنجیدہ غیر سیاسی روش کاعکاس ہے پشتونخوا اور بلوچستان کے عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی بدامنی نقل مکانی اور معاشی مشکلات کی بھاری قیمت ادا کی ہے ان خطوں کے عوام کو مسئلے کی جڑ قرار دینے کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلسل بدامنی نے مقامی آبادی کی زندگی معیشت تعلیم کاروبار اور سماجی ڈھانچے کو کس قدر متاثر کیا ہے حالیہ دنوں میں بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی صوبے کی سیاسی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر مشترکہ سیاسی کردار اور بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ پنجاب کی اشرافیہ اور حکمران طبقے کی جانب سے ماضی میں اختیار کی جانے والی مرکزی نوعیت کی پالیسیوں نے چھوٹی قوموں کے اندر احساسِ محرومی کو بڑھایا ہے پشتون اور بلوچ اقوام اپنے تاریخی وطن زبان ثقافت شناخت وسائل اور سیاسی حقوق کے تحفظ کا حق رکھتی ہیں کسی بھی صورت میں انتظامی یونٹس کے ذریعے ان اقوام کی قومی شناخت تاریخی تسلسل ثقافتی ورثے اور جغرافیائی وحدت کو متاثر کرنے کی کوشش قابلِ قبول نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث کو محض انتظامی معاملہ قرار دینا کافی نہیں کیونکہ پاکستان کی وفاقی اکائیوں کی تشکیل تاریخی قومی ثقافتی اور جغرافیائی حقائق سے جڑی ہوئی ہے صوبوں کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کے نتیجے میں اگر قوموں کی شناخت وسائل اور سیاسی اختیار متاثر ہوتا ہے تو عوامی نیشنل پارٹی اس کی مزاحمت کرے گی وسائل کی منصفانہ تقسیم آئینی صوبائی خودمختاری اور قومی اکائیوں کے حقوق ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں پشتونخوا اور بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطے ہیں مگر ان وسائل سے یہاں کے عوام کی زندگیوں میں وہ بہتری نہیں آئی جس کے وہ آئینی اور بنیادی طور پر حقدار ہیں تیل گیس معدنیات پانی بجلی اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے فیصلہ سازی میں مقامی آبادی کی شمولیت اور ان کے جائز حق کو یقینی بنانا ہوگا کسی بھی خطے کے وسائل پر مقامی عوام کے حق کو نظرانداز کرکے پائیدار ترقی امن اور قومی یکجہتی کا تصور عملی شکل اختیار نہیں کرسکتا انہوں نے کہا کہ پشتونخوا اور بلوچستان میں جاری بدامنی کا سب سے بڑا نقصان عام شہری مزدور تاجر طالب علم کسان اور سیاسی کارکن اٹھا رہے ہیں آج بھی کوہاٹ میں درجنوں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اصغر خان اچکزئی نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی قوم دوست وطن دوست جمہوری ترقی پسند اور عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے باچا خان کے عدم تشدد جمہور رواداری اور سیاسی شعور کے فلسفے کی روشنی میں اے این پی اپنے قومی و جمہوری حقوق کے حصول کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی قسم کی انتہاپسندی۔
دہشت گردی تشدد اور نفرت کی سیاست کو مسترد کرتی ہے اور مسائل کے حل کے لیے آئین حقیقی پارلیمانی نظام مذاکرات اور سیاسی عمل کو بنیادی راستہ سمجھتی ہیصوبے کے عوام کے قومی سیاسی معاشی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اے این پی تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھائے گی موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کے اجتماعی مسائل امن و امان کے قیام صوبائی خودمختاری کی دفاع وسائل پر حق روزگار تعلیم صحت اور بنیادی سہولیات کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی صوبے یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ تمام قوموں کے برابر حقوق آئین کی بالادستی حقیقی جمہوریت وفاقی اکائیوں کی خود مختاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی حامی ہے یہاں بسنے والی تمام قوموں کو برابری عزت شناخت اور اپنے وسائل پر آئینی حق حاصل ہو کسی ایک صوبے یا قوم کو دوسرے صوبے یا قوم کے لیے خطرہ قرار دینے کے بجائے باہمی احترام سیاسی مکالمے اور آئینی اصولوں کو فروغ دینا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی تحصیل نواں کلی کے زیر اہتمام منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا کنونشن سے اے این پی کوئٹہ کے ضلعی صدر ثنا اللہ کاکڑ مرکزی ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹری جاوید کاکڑ تحصیل صدر ذاکر خان خلجی صوبائی آفس سیکرٹری عصمت داعی ضلعی سنئیر نائب صدر حاجی شان عالم ضلعی نائب صدر مبین خان بازئی تحصیل نواں کلی سنئیر نائب صدر باز سرباز پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبائی صدر رزاق عاصم تحصیل پریس سیکرٹری ظاہر سالار حبیب ننھیال اور دیگر نے بھی خطاب کیا مقررین نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ مزید مضبوط کریں جمہوری اور سیاسی سرگرمیوں کو منظم اور یہاں کے عوام کے آئینی قومی اور معاشی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کو مزید مثر بنائیں

