کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، عبدالباری شہزاد، اختر جان مری، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے کہا ہے کہ مقتدرہ کے اشاروں پر چلنے والے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں عوام دشمن فیصلوں اور سیاسی انجینئرنگ نے ملک کو سنگین بحرانوں سے دوچار کرکے بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مار کر غیر نمائندہ اور نااہل عناصر کو مسلط کرنے کا سلسلہ اب ملک کے سیاسی معاشی اور انتظامی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے کو پامال کرکے اقتدار پر قابض ہونے والے حکمرانوں نے ملک و قوم کے بجائے ذاتی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد مجروح اور ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ عوام کے حقیقی منتخب نمائندے ہی عوامی مسائل کی ترجمانی اور ان کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا غیر نمائندہ ٹولہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے اقتدار بچانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی ناقص حکمرانی اور غلط پالیسیوں نے ملکی معیشت اور سیاسی استحکام کو شدید متاثر کیا ہے یہ ٹولہ ملک کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کررہا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام شفاف انتخابات اور حقیقی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے اور جمہوری استحکام کی بنیاد مضبوط کرنے کا واحد راستہ ہے۔

