ی ایس ٹی اے کی رژن اسکول، بلیدہ پر حملے کی شدید مذمت، تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

کیچ (پریس ریلیز) پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) نے رژن اسکول، بلیدہ پر حالیہ مسلح حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اسکول بچوں، اساتذہ اور معاشرے کے لیے محفوظ مقامات ہونے چاہئیں۔ کسی بھی تعلیمی ادارے پر حملہ محض ایک اسکول پر حملہ نہیں بلکہ تعلیم، تعلیمی عمل اور بچوں کے مستقبل کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) بلیدہ میں تعلیمی اداروں سے متعلق پیش آنے والے مسلسل واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ماضی میں ساچ اسکول، گلبانگ اسکول، سنج اسکول اور کلکشان اسکول بھی مختلف واقعات کا سامنا کر چکے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے باعث طلبہ، والدین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ دسمبر 2024 میں بلیدہ کے گلبانگ اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جب نامعلوم مسلح افراد نے اسکول کے مرکزی دروازے پر فائرنگ کی۔ ایسے واقعات اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ علاقے میں تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ خطے میں تعلیم سے وابستہ افراد کی سلامتی بھی کئی برسوں سے ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ 2014 میں دی اویسس اسکول، گوادر کے پرنسپل زاہد عسکانی بلوچ کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح اگست 2023 میں تربت کے ایک نجی زبان کے ادارے کے انگریزی کے استاد عبدالرؤف برکت کو، توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد، جرگے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے نقاب پوش حملہ آوروں نے قتل کر دیا۔ نومبر 2013 میں سر حیدر کے بی، جو پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) کے بانی، وکیل اور ایک نجی انگریزی زبان کے ادارے کے منتظم بھی تھے، کو چاہسر کے قریب اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ کوش کلات میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ ان کے اغوا کے بعد ان کا ادارہ بھی بند کرنے پر مجبور ہو گیا۔ انہیں تقریباً تین سال بعد، اکتوبر 2016 میں رہا کیا گیا۔
یہ واقعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں اور ان سے وابستہ افراد کو کس قدر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ کیچ، مکران اور بلوچستان بھر میں نجی اسکول تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان کا تسلسل کے ساتھ کام کرنا ہزاروں طلبہ اور خاندانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کم تنخواہوں، محدود وسائل اور مشکل حالاتِ کار کے باوجود اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے اور اپنے معاشرے کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ایسے محفوظ اور پُرامن کام کے ماحول کے مستحق ہیں جہاں وہ خوف، دھمکی، دباؤ یا تشدد کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
پی ایس ٹی اے کے مطالبات
پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
رژن اسکول، بلیدہ پر ہونے والے حملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
حملے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بلیدہ اور دیگر حساس علاقوں میں اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔
تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں کو تعلیم اور وسیع تر معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کیا جائے۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسکول خوف، دھمکی، دباؤ یا تشدد کے بغیر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) یہ بھی واضح کرتی ہے کہ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن (پی ایس اے) کیچ کے ساتھ اپنے اختلافات کے باوجود، وہ اس مشکل وقت میں ایسوسی ایشن، اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ تعلیمی اداروں کا تحفظ تنظیمی اختلافات سے بالاتر ہے۔
یہ سلسلہ اب فوری طور پر رکنا چاہیے۔ حکام کو مزید حملوں کے رونما ہونے، بدامنی کے باعث تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے اور خوف کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کے بند ہونے یا اساتذہ کے اپنے فرائض جاری رکھنے سے گریز کرنے سے پہلے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ (پی ایس ٹی اے) رژن اسکول، بلیدہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور کیچ و مکران بھر میں تعلیمی اداروں اور تعلیم کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد کے تحفظ کے لیے فوری، سنجیدہ اور بامعنی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے.

پی ایس ٹی اے کیچ

اپنا تبصرہ بھیجیں