کوئٹہ(این این آئی) سینیٹر محمد عبدالقادر نے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے جاری منصوبوں کے لیے ناکافی فنڈز کی فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساتھ ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وفاقی حکومت، وزارتِ منصوبہ بندی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی صوبے کے برسوں سے زیرِ التوا منصوبوں کی تکمیل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے فنڈز کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان بھر میں قومی شاہراہوں کے دیگر جاری منصوبوں کو ان کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی معمولی رقوم دی جا رہی ہیں۔ متعدد منصوبوں کو پورے سال میں تکمیل کے لیے درکار باقی رقم کا دس فیصد بھی نہیں ملتا جہاں کسی منصوبے کی تکمیل کے لیے دس ارب روپے درکار ہوں، وہاں صرف ایک ارب روپے فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ پانچ ارب روپے کی ضرورت والے منصوبے کو محض ستر کروڑ روپے دیے جاتے ہیں،اس رفتار سے فنڈز فراہم کرکے منصوبوں کی بروقت تکمیل کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سے دس برس سے متعدد منصوبے مسلسل تاخیر اور سست روی کا شکار ہیں، لیکن وفاقی حکومت اور وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مطلوبہ توجہ اور عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، منصوبے شروع کرکے انہیں ناکافی فنڈنگ کے باعث برسوں ادھورا چھوڑ دینا عوام کو بنیادی سفری سہولتوں سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کمی صرف تعمیراتی کام کی رفتار متاثر نہیں کرتی بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ منصوبوں کی مجموعی لاگت بھی بڑھاتی ہے۔ تعمیراتی سامان، مشینری، ایندھن اور مزدوری کی قیمتوں میں اضافے سے پرائس ایسکلیشن اور لاگت میں تجاوز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آج جس منصوبے کو مناسب فنڈز دے کر مکمل کیا جا سکتا ہے، اسی منصوبے پر تاخیر کے باعث کل کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔ یہ طرزِ عمل قومی خزانے اور ترقیاتی وسائل دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی کمپنیاں بھی مسلسل مالی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔ مشینری، عملے اور سائٹ کے مستقل اخراجات جاری رہتے ہیں، جبکہ کام اور ادائیگیوں کا تسلسل برقرار نہیں رہتا۔ دوسری جانب ادھوری شاہراہوں کا سب سے زیادہ بوجھ بلوچستان کے عوام برداشت کر رہے ہیں، جنہیں روزمرہ سفر، علاج معالجے، تعلیم اور تجارتی سرگرمیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے واضح کیا کہ کراچی–کوئٹہ شاہراہ ایک اہم منصوبہ ہے، لیکن اس کے ساتھ بلوچستان کی دیگر قومی شاہراہوں کی تکمیل بھی یکساں توجہ کی مستحق ہے۔ صوبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام جاری منصوبوں کو ان کی ضرورت، پیش رفت اور تکمیل کی مدت کے مطابق منصفانہ اور قابلِ عمل بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور وزارتِ منصوبہ بندی بلوچستان میں نیشنل ہائی وے کے تمام زیرِ تکمیل منصوبوں کا فوری جائزہ لیں، بقایا ادائیگیوں اور باقی تعمیراتی کام کے لیے واضح مالی منصوبہ بنائیں اور فنڈز کے باقاعدہ اجرا کے ساتھ تکمیل کی مدت مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مزید غیرمعینہ تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے؛ انہیں اعلانات کے ساتھ عملی پیش رفت اور مکمل، محفوظ شاہراہیں چاہئیں۔

