کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائیدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں نمایاں اضافہ ملکی معیشت کیلئے حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات 6.51 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ارب 14 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں. گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 4 ارب 83 کروڑ ڈالر تھا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ستمبر 2026 میں بھی ٹیکسٹائل برآمدات نے مثبت رجحان برقرار رکھا۔ اس ماہ برآمدات سالانہ بنیادوں پر 8.63 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 6.81 فیصد بڑھ کر ایک ارب 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔ اگست میں یہ حجم ایک ارب 60 کروڑ جبکہ ستمبر 2025 میں ایک ارب 57 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔ نامساعد حالات کے باوجود پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ پاکستان کیلئے محض ایک برآمدی صنعت ہی نہیں بلکہ روزگار، صنعتی سرگرمی، زرعی معیشت اور زرمبادلہ کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم توانائی کی قیمتیں، بلند شرح سود، مہنگے خام مال، ٹیکسوں کا بوجھ، عالمی مسابقت اور پالیسیوں میں عدم تسلسل برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کی مسابقتی قیمتیں، آسان فنانسنگ، بروقت ریفنڈز، جدید ٹیکنالوجی اور مستقل برآمدی پالیسی فراہم کرے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات سے آگے بڑھ کر ویلیو ایڈڈ گارمنٹس، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ مصنوعات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی برآمد پر توجہ دینا ہوگی۔ یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مارکیٹ ڈائیورسفکیشن بھی ضروری ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں موجودہ اضافہ پاکستان کیلئے اہم معاشی موقع ہے۔ حکومت برآمد کنندگان کو مستقل اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرے، بجلی و گیس کے نرخ مسابقتی بنائے، ٹیکس نظام آسان کرے اور ویلیو ایڈیشن و جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے تو پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات سے نہ صرف اربوں ڈالر اضافی زرمبادلہ کما سکتا ہے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور مجموعی معاشی استحکام کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

