راولپنڈی کے قدیم چائے خانے

شاہد صدیقی
یہ راولپنڈی کے قدیم چائے خانوں کا تذکرہ ہے جہاں مجھے جانے‘ بیٹھنے‘ گپ شپ لگانے اور چائے پینے کا اتفاق ہوا۔ ہو سکتا ہے اس تذکرے میں بہت سے چائے خانوں کا تذکرہ نہ ہو جن سے آپ واقف ہوں لیکن جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہ صرف ان چائے خانوں کی کہانی ہے جن سے میرا ذاتی تعلق اور وابستگی رہی۔ یہاں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے۔ اُس زمانے میں ریستوران اور ہوٹل کا فرق نہیں ہوتا تھا اور اکثر ریستوران کو ہوٹل کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا۔ راولپنڈی کے جن چائے خانوں کی کہانی آپ سنیں گے ان میں سے اکثر وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئے اور ان کی جگہ جدید شاپنگ سنٹرز نے لے لی ہے لیکن یہ چائے خانے اب تک میری یادوں میں زندہ ہیں۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو بیتے ہوئے دن اور ان معدوم چائے خانوں کے دھندلے منظر واضح ہونے لگتے ہیں۔
میرے بچپن کا ایک حصہ ٹینچ بھاٹا میں گزرا۔ یہ راولپنڈی کی ایک پرانی اور معروف بستی ہے جو اپنے طویل ترین بازار کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ ٹینچ بھاٹا میں ہم جس گلی میں رہتے تھے اس کے قریب ہی مین روڈ پر معروف‘ اقبال ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں کبھی کبھار میں اپنے بڑے بھائیوں کے ساتھ جاتا تھا۔ اس ہوٹل میں اکثر شام ڈھلے لوگ آنا شروع ہو جاتے اور چائے پر گپ شپ ہوتی۔ ٹینچ بھاٹا میں دو اور ہوٹل بھی تھے جہاں ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی۔ ان میں سے ایک گلزار ہوٹل اور ایک مغل ہوٹل تھا۔ مجھ سے بڑے‘ انعام بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر ان ہوٹلوں میں جاتے تھے۔ ان کے ہمراہ مجھے بھی مغل ہوٹل اور گلزار ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ٹینچ بھاٹا کے کرائے کے گھر کے بعد ہم راولپنڈی کی ایک اور قدیم بستی ٹاہلی موہری کی ایک نئی آبادی نورس کالونی میں آ گئے جہاں ہم نے اپنا نیا گھر تعمیر کیا تھا۔ ٹاہلی موہری چوک میں ہمارے سامنے ہما ہوٹل کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ ایک باقاعدہ ہوٹل تھا جس کی بالائی منزل پر رہائشی کمرے تھے اور جس کے لائونج میں ریستوران تھا۔ مجھے یاد ہے یہ اس زمانے کا ایک جدید طرز کا ریستوران تھا۔ میں دوستوں کے ہمراہ کئی بار اس ریستوران میں گیا۔ بہت عرصے کے بعد مجھے ٹینچ بھاٹا اور ٹاہلی موہری جانے کا اتفاق ہوا تو ان میں سے کوئی بھی ہوٹل باقی نہ تھا۔
راولپنڈی کی لال کُرتی میں میرا ہائی سکول تھا اور جس کے بازار اور سڑکوں پر میرا بہت وقت گزرا۔ یوں تو یہاں کئی ہوٹل تھے لیکن مجھے بگا ہوٹل یاد ہے‘ جہاں کھانا اور چائے ملتے تھے۔ البتہ لال کُرتی میں ہم دوستوں کا اصل ٹھکانہ ملّا کا ہوٹل تھا۔ یہاں کی خاص بات چائے بنانے کا منفرد طریقہ تھا جس میں ایک چولہے پر قہوہ اور دوسرے چولہے پر دودھ اُبل رہا ہوتا۔ یوں یہ ایک طرح کی سیپرٹ (separate) چائے ہوتی‘ جس کا اپنا ہی ذائقہ تھا۔ ملا ہوٹل کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اگر آپ چائے کا پورا کپ نہ پینا چاہیں تو آپ آدھا کپ بھی آرڈر کر سکتے تھے۔ اس کو یہاں کی زبان میں کٹ (Cut) کہا جاتا تھا۔ یہ عام کپ سے سستا ہوتا اور ہم طالب علموں کو سوٹ کرتا تھا۔ ہم اکثر کٹ آرڈر کرتے اور یہاں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔
کینٹ کے علاقے کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر صدر تھا‘ جو انگریزوں نے اپنی آمد کے بعد آباد کیا تھا۔ انگریز اپنے ساتھ اور بہت سی چیزوں کے علاوہ چائے بھی لائے تھے۔ کالج کے زمانے میں میری شناسائی صدر کے ریستورانوں سے ہوئی۔ صدر کے ہر ریستوران کا اپنا ایک مخصوص ماحول اور گاہک تھے۔ بینک روڈ پر سپر کیفے اپنے زمانے کا معروف ریستوران تھا۔ کیفے سے زیادہ کیفے کے مالک کی شخصیت ہمارے لیے اہم تھی۔ وہ ”فارغ البال‘‘ تھے اور لڑکے بالے انہیں فون کر کے پہلے تو مینو پوچھتے‘ پھر آخر میں ان کو دیا گیا نام پکارتے‘ جس کے جواب میں دی گئی مغلظات سن کر وہ قہقہے لگاتے۔ اب سوچتا ہوں وہ بھی کیا زمانہ تھا‘ ہم بات بے بات ہنسنے کے مواقع تلاش کیا کرتے تھے۔ سپر ہوٹل کے ہمسائے میں کامران ہوٹل تھا۔ میں جس زمانے کی بات کر رہا ہوں اس وقت ہمارا ٹھکانہ کامران ہوٹل ہوا کرتا تھا‘ جہاں انگلش ٹی ملتی تھی۔ انگلش ٹی سے مراد یہ ہے کہ چائے کی پیالی میں تھوڑی سی کافی کی آمیزش ہوتی۔ یاد رہے کہ اصل کامران ہوٹل کامران مارکیٹ میں تھا‘ جس میں رہائشی کمرے بھی تھے۔ کامران ہوٹل کی ایک برانچ ٹوپی رکھ (موجود ہ نیشنل پارک) میں ہوا کرتی تھی جس میں گھاس کا ایک وسیع و عریض لان تھا۔ اُن دنوں ٹوپی رکھ راولپنڈی کی ایک اہم سیرگاہ تھی۔ بالی وڈ کے مشہور اداکار بلراج ساہنی‘ جن کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی تھی‘ نے اپنے پاکستان کے سفرنامے میں راولپنڈی کی جن پسندیدہ جگہوں کا ذکر کیا ہے ان میں ٹوپی رکھ بھی شامل ہے۔ یہاں سال کے سال بڑے پیمانے پر موسیقی کا ایک پروگرام ہوا کرتا تھا۔ سینیٹر پرویز رشید جو اُن دنوں سکول میں پڑھتے تھے‘ بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ بھی اپنے والد صاحب کے ہمراہ موسیقی کے اس سالانہ پروگرام کو سننے کیلئے ٹوپی رکھ میں واقع کامران ہوٹل گئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اُس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان سوٹ پہنے اور سر پر قراقلی ٹوپی سجائے پہلی صف میں بیٹھے ہیں۔ پرویز رشید بتاتے ہیں کہ اس دن گلوکارہ ثریا ملتانیکر نے اپنا معروف گیت ”بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا‘‘ گایا تھا۔
اسی دوران صدر میں ایک نئے ریستوران برلاس کا آغاز ہوا جو جلد ہی ہماری توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس کی ایک وجہ اس کا محلِ وقوع تھا۔ ہم برلاس کی بالائی منزل پہ بیٹھتے تو اس کی شیشے کی دیوار سے صدر کی سڑک اور اس پر رواں دواں ٹریفک ہمیں صاف نظر آتی۔ اس ریستوران کی اور ایک خاص بات اس کے چائے کے بڑے سائز کے کپ تھے۔ میں صدر کے علاقے میں ہوتا تو اکثر برلاس چلا جاتا۔ یہیں ایک بار چائے پر گفتگو کے دوران معروف شاعر نثار ناسک نے اپنا ایک شعر سنایا جو یادوں میں ابھی تک تروتازہ ہے۔
میں سازشوں میں گھِرا ا ک یتیم شہزادہ
یہیں کہیں کوئی خنجر مری تلاش میں ہے
صدر کے سیروز سینما کے بالکل سامنے ووگیز کے نام سے راولپنڈی کا ایک معروف کیفے تھا جہاں کافی اور چائے دستیاب ہوتی تھی۔ انہی دنوں بینک روڈ پر واقع کریم ہوٹل اور نوائے وقت کے دفتر کی پشت پر داتا ہوٹل کا آغاز ہوا۔ شالیمار ہوٹل میں بیٹھنے والے شاعروں‘ ادیبوں کے ایک گروپ نے اب داتا ہوٹل میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ یہیں پر ایک دفعہ معروف شاعر اور کالم نگار اجمل نیازی مرحوم کے ساتھ چائے پی رہا تھا تو باتوں باتوں میں اجمل نیازی نے اپنا ایک شعر سنایا۔ اس بات کو مدتیں بیت گئیں لیکن وہ شعر میرے حافظے میں اب بھی تازہ ہے:
منزلوں پر بھی پہنچ کر وہ ابھی تک منزلوں جیسا نہیں
اس کی آنکھوں میں نہیں ہیں راستوں کے منظروں کی حیرتیں
وہ راستوں کے منظروں کی حیرتیں سمیٹنے کے دن تھے۔ یوں بھی وہ حیرتوں کی فراوانی کا زمانہ تھا جب ہمیں گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہریں اور سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی شامیں بھی گھروں میں نہ روک سکتی تھیں۔ سرِ شام ریستورانوں کی کشش ہمیں اپنی طرف بلاتی اور ہم اس کی پکار پر کھنچے چلے جاتے تھے۔ (جاری)

اپنا تبصرہ بھیجیں