گوادر فری زون میں پاکستانی و چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے شہزاد اینڈ شاؤ فارم کا بنیاد رکھ دیا گیا

گوادر(این این آئی)گوادر فری زون میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے شہزاد اینڈ شاؤ فارم کا بنیاد رکھا گیا۔ منصوبے کو گوادر میں سرمایہ کاری، زرعی و غذائی شعبے کی ترقی اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سنگِ بنیاد تقریب میں سیکرٹری وزارتِ بحری امور کیپٹن (ر) محمد خرم آغا، چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نسیم الحق ملاخیل، رکن پنجاب اسمبلی تحسین فواد، چیرمین چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی مسٹر یو بو، چیئرمین ضلع کونسل گوادر شے مختار بلوچ، کاروباری شخصیات، وکلا، صحافیوں، طالبات، اساتذہ اور چینی شہریوں نے شرکت کی، سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری وزارتِ بحری امور کیپٹن (ر) محمد خرم آغا نے شہزاد اینڈ شاؤ فارم کی انتظامیہ کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کی یہ شراکت داری دونوں ممالک کی دوستی کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی افراد کی فنی مہارتوں میں اضافہ ہوگا اور نئی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ گوادر فری زون کا بنیادی مقصد بندرگاہ کے قریب صنعتی و پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں کو متعلقہ قوانین کے تحت ٹیکس و کسٹمز کی مراعات کے ساتھ کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ زراعت اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے بہتر پراسیسنگ، پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کے ذریعے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے اس امر پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں، اس لیے منصوبے کی انتظامیہ مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے، انہیں تربیت دینے اور مقامی سپلائرز و خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور اور گوادر پورٹ اتھارٹی، حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ وفاقی اداروں کے تعاون سے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل، بالخصوص پانی، بجلی، ذرائع آمدورفت اور انتظامی امور سے متعلق مشکلات کے حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوادر فری زون کا بنیادی تصور صنعت اور بندرگاہ کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے، تاکہ کاروباری ادارے مصنوعات کی پراسیسنگ، پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے بعد گوادر پورٹ کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی فری زون تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ شمالی فری زون میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ بڑے صنعتی منصوبوں کے قیام کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے زرعی، ماہیگیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کیچ اور پنجگور کھجور کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ دیگر مقامی وسائل کو بھی بہتر پراسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور برآمدی سہولیات کے ذریعے معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور بندرگاہی سہولیات مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ چیرمین گوادر بندرگاہ نے مزید کہا کہ بندرگاہی محصولات میں کمی، بنکرنگ سروسز کے آغاز اور ٹرانس شپمنٹ کی سرگرمیوں سے گوادر میں تجارتی مواقع بڑھانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے، نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور مستقبل کے رابطہ کاری منصوبے بھی بندرگاہی و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے بتایا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کا 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ جولائی 2025 سے شہر کو پانی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر شہر اور فری زون کے لیے پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو منظوریوں، کسٹمز اور دیگر انتظامی معاملات میں درپیش مشکلات کے حل کے لیے بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ الاٹ شدہ زمین کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال میں لائیں، مقررہ مدت میں منصوبے مکمل کریں اور مقامی نوجوانوں کو روزگار و تربیت فراہم کرنے کے ساتھ مقامی کاروباری اداروں کو بھی اپنے منصوبوں کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی ماحول اور سمندری وسائل کا تحفظ، فضلے کا مؤثر انتظام اور سکیورٹی کے تقاضوں پر عمل درآمد بھی پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ شہزاد اینڈ شاؤ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاؤ یونفی نے کہا کہ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور تجارتی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے فارم کے افتتاح کو خوشی اور فخر کا موقع قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ چین کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ مقامی سطح پر بھی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نسیم الحق ملاخیل، رکن پنجاب اسمبلی تحسین فواد، چیئرمین چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی مسٹر یو بو کا کہنا تھا کہ گوادر میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے مشترکہ منصوبے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی وسائل سے استفادے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہزاد اینڈ شاؤ فارم ایک کامیاب اور پائیدار کاروباری ادارے کے طور پر ترقی کرے گا اور گوادر فری زون میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں میں یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں