زبانوں کی ترقی، ترویج اور تحفظ کے لیے قائم ادبی اکیڈمیوں کی خودمختاری اور علمی و ادبی آزادی کا احترام کرنا حکومت کی آئینی، جمہوری اور قومی ذمہ داری ہے،پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے صوبائی اسمبلی میں مجوزہ ”قومی زبانوں، اکیڈمیز اور ادبی سوسائٹیز بل 2026“ پیش کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ بل کو فی الفور واپس لیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی سمیت تمام قومی زبانیں یہاں کے عوام کی قومی شناخت، تاریخی ورثے، تہذیبی تسلسل اور اجتماعی شعور کی بنیادی علامتیں ہیں۔ ان زبانوں کی ترقی، ترویج اور تحفظ کے لیے قائم ادبی اکیڈمیوں کی خودمختاری اور علمی و ادبی آزادی کا احترام کرنا حکومت کی آئینی، جمہوری اور قومی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قانون کے ذریعے ان اداروں کو سرکاری بیوروکریسی کے ماتحت کرنے اور ان کی تخلیقی آزادی محدود کرنے کی کوشش قابلِ قبول نہیں ہوگی۔پارٹی نے کہا کہ قومی زبانیں محض اظہار و ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، ثقافت، روایات، لوک دانش، اجتماعی تجربات اور فکری ارتقا کی امین ہوتی ہیں۔ ان زبانوں کے ذریعے قومیں اپنا تاریخی شعور نئی نسلوں تک منتقل کرتی ہیں اور اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتی ہیں۔ مادری اور قومی زبانوں میں تعلیم، تحقیق، ادب، شاعری، تاریخ نویسی اور سائنسی و فنی علوم کے فروغ سے معاشروں میں تخلیقی صلاحیتوں اور علمی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔ لہٰذا قومی زبانوں کا تحفظ کسی ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ متعلقہ اقوام کے بنیادی قومی، ثقافتی اور علمی حقوق کا مسئلہ ہے۔پشتونخوا نیپ نے کہا کہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی زبانوں کی اپنی منفرد تاریخی، ادبی اور تہذیبی حیثیت ہے۔ ان زبانوں میں صدیوں پر محیط لوک ادب، رزمیہ شاعری، داستانیں، تاریخی روایات اور عوامی دانش کا وسیع سرمایہ موجود ہے، جسے ادیبوں، شاعروں، محققین اور دانشوروں نے اپنی محنت سے محفوظ رکھا ہے۔ ان زبانوں کی ترقی باہمی احترام، مساوات اور مشترکہ ثقافتی فروغ کے اصولوں پر ہونی چاہیے، کیونکہ ایک زبان کی ترقی دوسری زبان کے حقوق محدود کرکے ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔پارٹی نے کہا کہ قومی زبانوں کی ادبی اکیڈمیاں محض سرکاری گرانٹ حاصل کرنے والے ادارے نہیں بلکہ علمی تحقیق، ادبی تخلیق، کتابوں کی اشاعت، مخطوطات کے تحفظ، لغات و قواعد کی تدوین، ادبی تقریبات اور نئی نسل کی تربیت کے اہم مراکز ہیں۔ ان اداروں کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انہیں اپنے علمی، ادبی اور انتظامی امور میں مناسب خودمختاری حاصل ہو اور ان کے فیصلے متعلقہ زبانوں کے اہلِ علم، ادیبوں، شاعروں اور منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کیے جائیں۔پشتونخوا نیپ نے نشاندہی کی کہ صوبے میں قومی زبانوں کی ادبی اکیڈمیاں چیریٹیز ایکٹ 2019 کے تحت رجسٹرڈ خودمختار اداروں کے طور پر کام کرتی ہیں اور حکومت سے گرانٹ اِن ایڈ حاصل کرتی ہیں۔ حکومتی مالی معاونت کا مقصد ان اداروں کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو تقویت دینا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی خودمختاری محدود کرنے یا انہیں بیوروکریسی کے انتظامی کنٹرول میں دینے کا ذریعہ بنانا۔ مالی شفافیت، احتساب اور قانون کی پابندی ضروری ہیں، لیکن ان کی آڑ میں علمی و ادبی آزادی ختم کرنا درست نہیں۔پارٹی نے مجوزہ بل کے حوالے سے متعلقہ قومی زبانوں کی ادبی اکیڈمیوں کے ذمہ دار نمائندوں، ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ علم سے مؤثر مشاورت نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ قومی زبانوں اور ان کے ادبی اداروں سے متعلق قانون سازی ان لوگوں کی رائے سنے بغیر کرنا، جو ان زبانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے عملی طور پر کام کر رہے ہیں، جمہوری اصولوں اور شراکتی قانون سازی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ایسے اہم معاملے پر جلدبازی کے بجائے کھلی، جامع اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت قومی زبانوں کی ادبی اکیڈمیوں کی مالی معاونت میں اضافہ کرے اور معیاری کتابوں کی اشاعت، تراجم، لغات، تحقیق، ڈیجیٹل آرکائیوز، تاریخی دستاویزات کے تحفظ اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ قومی زبانوں کو تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، سرکاری و عوامی زندگی اور علمی تحقیق میں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ نئی نسل اپنی مادری زبانوں میں علم حاصل کرتے ہوئے جدید علمی و سائنسی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکے۔ تمام قومی زبانوں کو مساوی حقوق اور وسائل فراہم کرنا صوبے میں باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔پارٹی نے صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ”قومی زبانوں، اکیڈمیز اور ادبی سوسائٹیز بل 2026“ کی موجودہ صورت میں منظوری کی مخالفت کی جائے اور اسے فوری طور پر متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، تاکہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی سمیت تمام قومی زبانوں کی ادبی اکیڈمیوں کے نمائندوں، ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور متعلقہ ماہرین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا بھرپور موقع مل سکے۔ تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت اور ان کے تحفظات دور کیے بغیر اس نوعیت کی قانون سازی سے گریز کیا جائے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر مجوزہ بل کو ادبی اداروں کی خودمختاری اور علمی و ادبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنائے بغیر منظور کیا گیا تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے سمیت تمام دستیاب جمہوری و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پشتون قومی تشخص، پشتو زبان و ادب اور صوبے کی تمام قومی زبانوں کے حقوق، ثقافتی تنوع اور خودمختار علمی و ادبی اداروں کے تحفظ کے لیے اپنی جمہوری و سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ قومی زبانوں کا تحفظ دراصل قوموں کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور آنے والی نسلوں کے فکری مستقبل کا تحفظ ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں