بلوچستان کی بزنس کمیونٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے ادارے کے ساتھ تعاون کرے،مشتاق علی شاہانی

کوئٹہ(این این آئی) ڈیزگنیٹڈ نان فنانشل بزنسز اینڈ پروفیشنز (DNFBPs) کے ڈائریکٹر مشتاق علی شاہانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی بزنس کمیونٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ادارے کے ساتھ تعاون کرے۔ رجسٹریشن کا مقصد کاروباری افراد کو پریشان کرنا یا ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ ریکارڈ کو مرتب اور محفوظ رکھنا اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاررواء ی کی جا سکتی ہے۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران وممبران کے ساتھ منعقدہ سیشن سے اظہار خیال کر تے ہو ئے ڈائریکٹر DNFBPs مشتاق علی شاہانی نے کہا کہ ادارہ بلڈرز، قیمتی پتھروں کے کاروبار سے وابستہ افراد، جیولرز، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور مالیاتی خدمات و مشاورت فراہم کرنے والے شعبوں سے وابستہ افراد کی رجسٹریشن چاہتا ہے۔ ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو متعلقہ قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنی رجسٹریشن مکمل کرانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ کاروباری افراد کو اپنے کاروبار سے متعلق ریکارڈ برقرار رکھنا ہوگا۔ ادارے کی بنیادی ذمہ داری ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ بعض افراد کی جانب سے انفرادی طور پر قوانین کی خلاف ورزی کے باعث پورے کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مشتاق علی شاہانی نے خبردار کیا کہ رجسٹریشن نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے جبکہ متعلقہ قوانین کے تحت کاروباری سرگرمیوں اور سفر پر پابندیوں سمیت دیگر قانونی اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اس موقع پر ایوانِ صنعت و تجارت کوئٹہ کے سینئر نائب صدر مرزا خان خلجی اور دیگر نمائندوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے تحفظ اور اداروں پر اس کے اعتماد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ بلوچستان پہلے ہی مختلف معاشی اور کاروباری مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں کاروباری طبقے پر نت نئی شرائط عائد کرنے سے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کاروباری افراد کے تحفظات اور خدشات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئے بغیر قانونی تقاضوں پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔صرافہ ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر محمد حسین اور رمضان دہوار نے کہا کہ رجسٹریشن اور سونے کی مقدار سے متعلق معاملات پر انہوں نے عدلیہ سے رجوع کیا ہے، جس نے اس سلسلے میں DNFBPs کے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق عدلیہ کی جانب سے معاملے پر نظرثانی کے احکامات بھی دیے گئے ہیں، لہٰذا متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ کاروباری برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کا معاشرہ قبائلی روایات پر مبنی ہے، جہاں کاروباری لین دین کے دوران ہر شخص سے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات حاصل کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے مقامی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری افراد کو مناسب رعایت دی جائے اور ایسے طریقہ کار وضع کیے جائیں جن پر عمل درآمد آسان ہو۔صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر کاروباری برادری کے جائز خدشات دور نہ کیے گئے اور سخت شرائط پر نظرثانی نہ ہوئی تو بلوچستان میں پہلے سے مشکلات کا شکار کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔اجلاس میں کاروباری نماء ندوں نے اس بات پر زور دیا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام ایک اہم قومی ذمہ داری ہے تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ قانونی تقاضوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مخصوص معاشرتی، قبائلی اور کاروباری حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ قانون پر عمل درآمد اور کاروباری برادری کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں