نوشکی گرلز کالج پر فائرنگ کی شدید مذمت تربت: نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید

تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نوشکی میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً طالبات کے کالجوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابلِ مذمت عمل ہے بلکہ بلوچ سماج کی تاریخی، قومی، مذہبی اور معاشرتی اقدار کے بھی صریحاً منافی ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کی عزت، تحفظ اور تعلیم کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ طالبات کے تعلیمی ادارے میں فائرنگ جیسے واقعات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے اقدامات سے خوف و ہراس پیدا کرکے طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ان کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوئی بھی کوشش بلوچ قوم کے شعور، ترقی اور مستقبل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں طالبات کو تعلیم سے دور رکھنے کے بجائے ان کے لیے محفوظ، سازگار اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے واقعات ریاستی اداروں اور متعلقہ حکام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہیں، جن کا جواب محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ اور فوری تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تمام تعلیمی اداروں بالخصوص طالبات کے کالجوں کی سیکیورٹی مؤثر بنائی جائے اور طالبات و اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ زخمی طالبات کو فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے بہتر طبی سہولیات کے حامل اسپتالوں میں منتقل کیا جائے اور ان کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو اس مشکل گھڑی میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آخر میں انجنیئر حمید بلوچ نے زخمی طالبات اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ طالبات کے تحفظ، تعلیم اور مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کی بیٹیوں کو خوف نہیں، تحفظ؛ رکاوٹیں نہیں، تعلیم؛ اور عدم تحفظ نہیں، ایک روشن مستقبل درکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں