لسبیلہ: نیشنل بینک اوتھل کی 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ڈکیتی میں ملوث تین ملزمان گرفتار، دو کاریں، رکشہ، موٹرسائیکل اور اسلحہ برآمد

لسبیلہ(رپورٹ بیورچیف حفیظ دانش) لسبیلہ پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں فروری 2025ء کے دوران نیشنل بینک میں ہونے والی 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بڑی ڈکیتی میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان لسبیلہ یونیورسٹی میں طالب علم تھے۔جبکہ ڈکیتی کی رقم سے خریدی گئی دو ہونڈا سوک گاڑیاں، ایک کارگو رکشہ اور ایک یونیک موٹرسائیکل سمیت واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔اس حوالے سے ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے ڈی ایس پی لسبیلہ رائے حق شاہ، ایس ایچ او اوتھل وحید مگسی، سی آئی انچارج لسبیلہ جان محمد جاموٹ اور ایس ایچ او بیلہ یار محمد کمانڈو کے ہمراہ اوتھل تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2025ء میں نیشنل بینک اوتھل میں ہونے والی ڈکیتی میں پانچ ملزمان ملوث تھے، جن میں زوہیب، بلال، اکرم، مرتضیٰ، جواد، بلال اور حمید کے نام سامنے آئے ہیں۔جبکہ گرفتار تین ملزمان میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ واردات کے بعد ملزمان فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت ایس ایچ او اوتھل یار محمد کمانڈو تعینات تھے، جنہوں نے ملزمان کا تعاقب کیا، تاہم ملزمان نے فائرنگ کرکے انہیں زخمی کردیا اور اپنی گاڑی کو آگ لگا کر فرار ہوگئے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے جدید خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ڈکیتی میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے ڈکیتی کی رقم سے دو ہونڈا سوک گاڑیاں، ایک ہونڈا کارگو رکشہ اور ایک یونیک موٹرسائیکل خریدی تھی۔اور بینکس میں انویسٹ بھی کر رکھی ہے۔جب ملزمان نے سیکیورٹی فورس کی وردیاں بھی پہن رکھی تھیں جو کہ انہوں نے آن لائن منگوائی تھیں۔جنہیں پولیس نے برآمد کرلیا ہے۔ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی کے مطابق مرکزی ملزم زوہیب کے بینک اکاؤنٹ کی جانچ پڑتال کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پہلے اس کے اکاؤنٹ میں ہزاروں روپے موجود ہوتے تھے، جبکہ بعد ازاں اس کے اکاؤنٹ میں تقریباً 17 کروڑ روپے کی رقم موجود ہونے کا انکشاف ہوا۔ مزید یہ کہ ملزمان نے کرشنا نامی ایک ہندو تاجر کے اکاؤنٹ میں بھی تقریباً تین کروڑ روپے منتقل کئے جس کے ذریعے ایزی پیسہ اور دیگر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی گئیں۔ مذکورہ تاجر کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا ہےانہوں نے کہا کہ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے واضح کیا کہ ضلع لسبیلہ میں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ لسبیلہ کو جرائم سے پاک کرنا پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور جرائم کرنے والا کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں