اوتھل (این این آئی) مورند کالونی اسکول میں کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب سولر واٹر بور سابقہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لسبیلہ کے افسران اور مشہور زمانہ ٹھیکیدار کی غفلت و کوتاہی کے سبب دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فعال نہ ہوسکا، ارباب کالونی اور اس سے ملحق آبادی پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئی۔ ٹینکر مافیا کی چاندی، تفصیلات کے مطابق مورند کالونی اسکول میں کروڑوں روپے کی لاگت سے 2024 میں نصب کردہ سولر بور سابقہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لسبیلہ کے افسران اور مشہور زمانہ ٹھیکیدار کی غفلت و کوتاہی کے سبب دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال فعال نہ ہوسکا۔ جب کہ بور مکمل تیار ہے اور سولر پلیٹس بھی نصب کردی گئیں ہیں لیکن پانی کی سپلائی تاحال شروع نہیں کی جاسکی جس کے سبب ارباب کالونی اور اس سے ملحق آبادی کافی عرصے سے پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئی ہے جس سے ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی ہے اور اہلیان مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اہلیان ارباب کالونی نے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ، محکمہ پبلک ہیلتھ لسبیلہ کے ایگزیکٹو انجینئر، ایس ڈی او سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر اس سولر بور کو فوری فعال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تاکہ ایک بڑی آبادی کے لیئے پینے کے پانی کا مسلہ حل ہو جائے۔ اور ان کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

