کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی ابوبکر، عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے کہا ہے کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان سیل کرنا حکومتی بدنیتی سیاسی انتقام اور عدم برداشت کی بدترین مثال ہے۔ یہ اقدام حکومتی بوکھلاہٹ اور مخالفین کو دبانے کی ناکام کوشش کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے نااہل حکمرانوں کو آئینہ دکھایا اور ان کی ناقص حکمرانی عوام دشمن پالیسیوں اور نااہلی پر آواز بلند کی۔ حکومت سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے اور انتقامی کارروائیوں سے فوری باز آئے۔ رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے تعمیر کو اپنا اصول بنایا ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکمرانوں نے سیاسی تنقید کا جواب دلیل اور کارکردگی سے دینے کے بجائے انتقامی اقدامات کا راستہ اختیار کر رکھا ہے. انہوں نے کہا کہ جب جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور جماعت کے خلاف کرپشن یا دیگر الزامات کے ذریعے دباؤ ڈالنے میں ناکامی ہوئی تو حکومت نے انتقامی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر بلیک میل کرنا کاروبار بند کرنا اور ذاتی و معاشی نقصان پہنچانا حکومتی جبر اور سیاسی عدم برداشت کی افسوسناک مثالیں ہیں انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام کے قائدین اور کارکنان ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ جماعت نے ہمیشہ آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کی ہے اور ہر قسم کے ظلم، جبر اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان فوری طور پر کھول کر کاروبار بحال کیا جائے اور حکومت سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کرے۔

